19:12至19:15节的经注
يا يحيى خذ الكتاب بقوة واتيناه الحكم صبيا ١٢ وحنانا من لدنا وزكاة وكان تقيا ١٣ وبرا بوالديه ولم يكن جبارا عصيا ١٤ وسلام عليه يوم ولد ويوم يموت ويوم يبعث حيا ١٥
يَـٰيَحْيَىٰ خُذِ ٱلْكِتَـٰبَ بِقُوَّةٍۢ ۖ وَءَاتَيْنَـٰهُ ٱلْحُكْمَ صَبِيًّۭا ١٢ وَحَنَانًۭا مِّن لَّدُنَّا وَزَكَوٰةًۭ ۖ وَكَانَ تَقِيًّۭا ١٣ وَبَرًّۢا بِوَٰلِدَيْهِ وَلَمْ يَكُن جَبَّارًا عَصِيًّۭا ١٤ وَسَلَـٰمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّۭا ١٥
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

کہا جاتا ہےکہ حضرت یحییٰ جب چھوٹے تھے تو لڑکوں نے ایک بار انھیں کھیلنے کے ليے بلایا۔ انھوںنے انکار کردیا اور کہاکہ’’ ہم اس ليے نہیں بنائے گئے ہیں‘‘۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کو بچپن سے یہ شعور حاصل تھا کہ زندگی کو بامقصد ہونا چاہيے۔ اسی طرح ان کے اندر پیدائشی طورپر سوز و گداز موجود تھا۔ وہ نفسیاتی گرہوں سے آزاد تھے۔ وہ اپنے والدین کے حقوق ادا کرنے والے تھے ۔ وہ سرکشی اور نافرمانی سے بالکل خالی تھے۔

یہی وہ اوصاف ہیں جو آدمی کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ کسی حال میں خدا کی کتاب سے نہ ہٹے۔ اور انہیں اوصاف والا آدمی وہ ہے جس پر دنیا میں بھی خدا کی رحمت نازل ہوتی ہے اور آخرت میں بھی خدا کی رحمت۔