15:67至15:71节的经注
وجاء اهل المدينة يستبشرون ٦٧ قال ان هاولاء ضيفي فلا تفضحون ٦٨ واتقوا الله ولا تخزون ٦٩ قالوا اولم ننهك عن العالمين ٧٠ قال هاولاء بناتي ان كنتم فاعلين ٧١
وَجَآءَ أَهْلُ ٱلْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ ٦٧ قَالَ إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ ضَيْفِى فَلَا تَفْضَحُونِ ٦٨ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ ٦٩ قَالُوٓا۟ أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٧٠ قَالَ هَـٰٓؤُلَآءِ بَنَاتِىٓ إِن كُنتُمْ فَـٰعِلِينَ ٧١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

قومِ لوط کی بستی (سدوم) میں جو فرشتے آئے وہ نہایت خوبصورت نوجوان کی صورت میں آئے۔ یہ گویا فحاشی میں ڈوبی ہوئی اس قوم کی جانچ کا آخری پرچہ تھا۔ چنانچہ یہ لوگ اپنی بڑھی ہوئی سرکشی کی بنا پر ان نوجوان پر ٹوٹ پڑے۔ وہ حسب عادت ان کے ساتھ بد کاری کرنا چاہتے تھے۔ مگر انھیں معلوم نہ تھا کہ وہ جن کو پرکشش نوجوان سمجھ رہے ہیں وہ دراصل عذاب کے فرشتے ہیں، جو صرف اس لیے آئے ہیں کہ ان کو ہمیشہ کے لیے ذلیل کرکے چھوڑ دیں۔

’’میری بیٹیاں‘‘ سے مراد قوم کی بیٹیاں ہیں۔ حضرت لوط نے جب دیکھا کہ ظالم لوگ منع کرنے کے باوجود مہمانوںپر ٹوٹے پڑ رہے ہیں تو آپ نے ان سے کہا کہ خدارا، میرے مہمانوں کے معاملہ میں مجھ کو رسوا نہ کرو۔ اگر تم کو کچھ کرنا ہے تو یہ قوم کی لڑکیاں ہیں ان میں سے جس سے چاہو نکاح کرلو۔