آپ 7:8 سے 7:9 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
والوزن يوميذ الحق فمن ثقلت موازينه فاولايك هم المفلحون ٨ ومن خفت موازينه فاولايك الذين خسروا انفسهم بما كانوا باياتنا يظلمون ٩
وَٱلْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ ٱلْحَقُّ ۚ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ٨ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُم بِمَا كَانُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا يَظْلِمُونَ ٩
وَالْوَزْنُ
یَوْمَىِٕذِ
لْحَقُّ ۚ
فَمَنْ
ثَقُلَتْ
مَوَازِیْنُهٗ
فَاُولٰٓىِٕكَ
هُمُ
الْمُفْلِحُوْنَ
۟
وَمَنْ
خَفَّتْ
مَوَازِیْنُهٗ
فَاُولٰٓىِٕكَ
الَّذِیْنَ
خَسِرُوْۤا
اَنْفُسَهُمْ
بِمَا
كَانُوْا
بِاٰیٰتِنَا
یَظْلِمُوْنَ
۟
3

آیت 8 وَالْوَزْنُ یَوْمَءِذِ نِ الْحَقُّ ج اس روز اللہ تعالیٰ ترازو نما کوئی ایسا نظام قائم کرے گا ‘ جس کے ذریعے سے اعمال کا ٹھیک ٹھیک وزن ہوگا ‘ مگر اس دن وزن صرف حق ہی میں ہوگا ‘ یعنی صرف اعمال صالحہ ہی کا وزن ہوگا ‘ باطل اور برے کاموں میں سرے سے کوئی وزن نہیں ہوگا ‘ ریاکاری کی نیکیاں ترازو میں بالکل بےحیثیت ہوں گی۔ وَالْوَزْنُ یَوْمَءِذِ نالْحَقُّ ج کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ اس دن وزن ہی حق ہوگا ‘ وزن ہی فیصلہ کن ہوگا۔ اگر دو پلڑوں والی ترازو کا تصور کریں تو جس کا نیکیوں والا پلڑا بھاری ہوگا نجات بس اسی کے لیے ہوگی۔