آپ 5:15 سے 5:16 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
يا اهل الكتاب قد جاءكم رسولنا يبين لكم كثيرا مما كنتم تخفون من الكتاب ويعفو عن كثير قد جاءكم من الله نور وكتاب مبين ١٥ يهدي به الله من اتبع رضوانه سبل السلام ويخرجهم من الظلمات الى النور باذنه ويهديهم الى صراط مستقيم ١٦
يَـٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَـٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًۭا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ ٱلْكِتَـٰبِ وَيَعْفُوا۟ عَن كَثِيرٍۢ ۚ قَدْ جَآءَكُم مِّنَ ٱللَّهِ نُورٌۭ وَكِتَـٰبٌۭ مُّبِينٌۭ ١٥ يَهْدِى بِهِ ٱللَّهُ مَنِ ٱتَّبَعَ رِضْوَٰنَهُۥ سُبُلَ ٱلسَّلَـٰمِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ ٱلظُّلُمَـٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ بِإِذْنِهِۦ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ ١٦
یٰۤاَهْلَ
الْكِتٰبِ
قَدْ
جَآءَكُمْ
رَسُوْلُنَا
یُبَیِّنُ
لَكُمْ
كَثِیْرًا
مِّمَّا
كُنْتُمْ
تُخْفُوْنَ
مِنَ
الْكِتٰبِ
وَیَعْفُوْا
عَنْ
كَثِیْرٍ ؕ۬
قَدْ
جَآءَكُمْ
مِّنَ
اللّٰهِ
نُوْرٌ
وَّكِتٰبٌ
مُّبِیْنٌ
۟ۙ
یَّهْدِیْ
بِهِ
اللّٰهُ
مَنِ
اتَّبَعَ
رِضْوَانَهٗ
سُبُلَ
السَّلٰمِ
وَیُخْرِجُهُمْ
مِّنَ
الظُّلُمٰتِ
اِلَی
النُّوْرِ
بِاِذْنِهٖ
وَیَهْدِیْهِمْ
اِلٰی
صِرَاطٍ
مُّسْتَقِیْمٍ
۟
3

آیت 15 یٰٓاَ ہْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ کَثِیْرًا مِّمَّا کُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْکِتٰبِ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍط قَدْ جَآءَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّکِتٰبٌ مُّبِیْنٌ ۔ یہاں نور سے مراد نبی اکرم ﷺ کی شخصیت بھی ہوسکتی ہے۔ سورة النساء آیت 174 میں جو فرمایا گیا : وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا اور نازل کردیا ہے ہم نے تمہاری طرف ایک روشن نور وہاں نور سے مراد قرآن ہے ‘ اس لیے کہ حضور ﷺ کے لیے فعل اَنْزَلْنَادرست نہیں۔ لیکن یہاں زیادہ احتمال یہی ہے کہ نور سے مراد رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارکہ ہے ‘ یعنی آپ ﷺ کی روح پر نور ‘ کیونکہ آپ ﷺ کی روح اور روحانیت آپ ﷺ کے پورے وجود پر غالب تھی ‘ چھائی ہوئی تھی۔ اس لحاظ سے آپ ﷺ کو نور مجسم بھی کہا جاسکتا ہے۔ گویا آپ ﷺ کو استعارۃً نور کہا گیا ہے۔ ایک احتمال یہ بھی ہے کہ یہاں نور بھی قرآن پاک ہی کو کہا گیا ہو اور و اس میں واؤ تفسیری ہو۔ اس صورت میں مفہوم یوں ہوگا : آگیا ہے تمہارے پاس نور یعنی کتاب مبین۔