واذا راوك ان يتخذونك الا هزوا اهاذا الذي بعث الله رسولا ٤١
وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَـٰذَا ٱلَّذِى بَعَثَ ٱللَّهُ رَسُولًا ٤١
وَاِذَا
رَاَوْكَ
اِنْ
یَّتَّخِذُوْنَكَ
اِلَّا
هُزُوًا ؕ
اَهٰذَا
الَّذِیْ
بَعَثَ
اللّٰهُ
رَسُوْلًا
۟
3

آیت 41 وَاِذَا رَاَوْکَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَکَ اِلَّا ہُزُوًا ط ”قریش مکہ کے ہاں حضور ﷺ کی دعوت کی مخالفت کا یہ بھی ایک طریقہ تھا کہ وہ بات سننے کے لیے کبھی سنجیدہ نہ ہوتے اور آپ ﷺ کی دعوت کو ہمیشہ مذاق میں اڑا دیتے۔ نہ وہ آپ ﷺ کی بات کو کبھی سنجیدگی سے سنتے ‘ نہ کبھی اس پر غور کرتے اور نہ ہی اس کا کوئی سنجیدہ جواب دیتے۔اَہٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰہُ رَسُوْلًا۔ ”یہ اور اس طرح کے دوسرے جملوں کے ذریعے وہ لوگ آپ ﷺ کا تمسخر اڑاتے تھے۔