آپ 10:34 سے 10:36 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
قل هل من شركايكم من يبدا الخلق ثم يعيده قل الله يبدا الخلق ثم يعيده فانى توفكون ٣٤ قل هل من شركايكم من يهدي الى الحق قل الله يهدي للحق افمن يهدي الى الحق احق ان يتبع امن لا يهدي الا ان يهدى فما لكم كيف تحكمون ٣٥ وما يتبع اكثرهم الا ظنا ان الظن لا يغني من الحق شييا ان الله عليم بما يفعلون ٣٦
قُلْ هَلْ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ ۚ قُلِ ٱللَّهُ يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ ٣٤ قُلْ هَلْ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَهْدِىٓ إِلَى ٱلْحَقِّ ۚ قُلِ ٱللَّهُ يَهْدِى لِلْحَقِّ ۗ أَفَمَن يَهْدِىٓ إِلَى ٱلْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّا يَهِدِّىٓ إِلَّآ أَن يُهْدَىٰ ۖ فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ ٣٥ وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا ۚ إِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغْنِى مِنَ ٱلْحَقِّ شَيْـًٔا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِمَا يَفْعَلُونَ ٣٦
قُلْ
هَلْ
مِنْ
شُرَكَآىِٕكُمْ
مَّنْ
یَّبْدَؤُا
الْخَلْقَ
ثُمَّ
یُعِیْدُهٗ ؕ
قُلِ
اللّٰهُ
یَبْدَؤُا
الْخَلْقَ
ثُمَّ
یُعِیْدُهٗ
فَاَنّٰی
تُؤْفَكُوْنَ
۟
قُلْ
هَلْ
مِنْ
شُرَكَآىِٕكُمْ
مَّنْ
یَّهْدِیْۤ
اِلَی
الْحَقِّ ؕ
قُلِ
اللّٰهُ
یَهْدِیْ
لِلْحَقِّ ؕ
اَفَمَنْ
یَّهْدِیْۤ
اِلَی
الْحَقِّ
اَحَقُّ
اَنْ
یُّتَّبَعَ
اَمَّنْ
لَّا
یَهِدِّیْۤ
اِلَّاۤ
اَنْ
یُّهْدٰی ۚ
فَمَا
لَكُمْ ۫
كَیْفَ
تَحْكُمُوْنَ
۟
وَمَا
یَتَّبِعُ
اَكْثَرُهُمْ
اِلَّا
ظَنًّا ؕ
اِنَّ
الظَّنَّ
لَا
یُغْنِیْ
مِنَ
الْحَقِّ
شَیْـًٔا ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
عَلِیْمٌۢ
بِمَا
یَفْعَلُوْنَ
۟
3

اللہ کے سوا جن کو خدائی کا مقام دیا جاتاہے، خواہ وہ انسان ہوں یا غیر انسان، کوئی بھی یہ طاقت نہیں رکھتا کہ وہ کسی غیر موجود کو موجود کردے۔ یہ صرف اللہ ہے جس کے لیے تخلیق کا عمل ثابت ہے۔ اور جب تخلیق کا عمل ایک بار اللہ کے لیے ثابت ہے تو اسی سے یہ بھی ثابت ہوجاتاہے کہ وہ اس کا اعادہ کرسکتاہے اور کرے گا۔ پھر جب وجود اول اور وجود ثانی دونوں کا اختیار صرف ایک اللہ کو ہے تو دوسرے شریکوں کی طرف توجہ لگانا بالکل عبث ہے۔ ان سے آدمی نہ اپنی پہلی زندگی میں کچھ پانے والا ہے اور نہ دوسری زندگی میں۔

یہی معاملہ رہنمائی کا ہے۔ ’’اللہ رہنمائی کرتا ہے‘‘ یہ چیز پیغمبروں کی ہدایت سے ثابت ہے۔ پیغمبروں نے جس ہدایت کو خدائی ہدایت کہہ کر انسان کے سامنے پیش کیا وہ مسلّم طورپر ایک ہدایت ہے۔ اس کے برعکس، شریکوں کا حال یہ ہے کہ وہ یا تو سرے سے اس قابل نہیں کہ وہ انسان کو حق اور ناحق کے بارے میں کوئی علم دیں (مثلاً بت) یا وہ اپنی کمیوں اور محدودیتوں کی وجہ سے خود رہنمائی کے محتاج ہیں، کجا کہ وہ دوسروں کو کوئی واقعی رہنمائی فراہم کریں (مثلاً انسانی معبود)، جب صورت حال یہ ہے تو انسان کو صرف ایک خداکی طرف رجوع کرنا چاہیے، نہ کہ فرضی شریکوں کی طرف۔

شرک کا کاروبار کسی واقعی علم پر قائم نہیں ہے بلکہ وہ مفروضات اور قیاسات پر قائم ہے۔ کچھ ہستیوں کے بارے میں بے بنیاد طورپر یہ رائے قائم کر لی گئی ہے کہ وہ خدائی صفات کے حامل ہیں۔ حالاں کہ اتنی بڑی رائے کسی حقیقی علم کی بنیاد پر قائم کی جاسکتی ہے ،نہ کہ محض اٹکل اور قیاس کی بنیاد پر۔