9:49 ile 9:52 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
ومنهم من يقول ايذن لي ولا تفتني الا في الفتنة سقطوا وان جهنم لمحيطة بالكافرين ٤٩ ان تصبك حسنة تسوهم وان تصبك مصيبة يقولوا قد اخذنا امرنا من قبل ويتولوا وهم فرحون ٥٠ قل لن يصيبنا الا ما كتب الله لنا هو مولانا وعلى الله فليتوكل المومنون ٥١ قل هل تربصون بنا الا احدى الحسنيين ونحن نتربص بكم ان يصيبكم الله بعذاب من عنده او بايدينا فتربصوا انا معكم متربصون ٥٢
وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ ٱئْذَن لِّى وَلَا تَفْتِنِّىٓ ۚ أَلَا فِى ٱلْفِتْنَةِ سَقَطُوا۟ ۗ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌۢ بِٱلْكَـٰفِرِينَ ٤٩ إِن تُصِبْكَ حَسَنَةٌۭ تَسُؤْهُمْ ۖ وَإِن تُصِبْكَ مُصِيبَةٌۭ يَقُولُوا۟ قَدْ أَخَذْنَآ أَمْرَنَا مِن قَبْلُ وَيَتَوَلَّوا۟ وَّهُمْ فَرِحُونَ ٥٠ قُل لَّن يُصِيبَنَآ إِلَّا مَا كَتَبَ ٱللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَىٰنَا ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ ٥١ قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَآ إِلَّآ إِحْدَى ٱلْحُسْنَيَيْنِ ۖ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ أَن يُصِيبَكُمُ ٱللَّهُ بِعَذَابٍۢ مِّنْ عِندِهِۦٓ أَوْ بِأَيْدِينَا ۖ فَتَرَبَّصُوٓا۟ إِنَّا مَعَكُم مُّتَرَبِّصُونَ ٥٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

مدینہ میں ایک شخص جُد بن قیس تھا۔ تبوک کے غزوہ میں نکلنے کے ليے اعلان عام ہوا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہا کہ مجھے اس غزوہ سے معاف رکھيے۔ یہ رومی علاقہ ہے۔ وہاں رومی عورتوں کو دیکھ کر میں فتنہ میں پڑ جاؤں گا، مگر ایسے مواقع پر عذر پیش کرنا بجائے خود فتنہ میں پڑنا ہے۔ کیوں کہ نازک مواقع پر آدمی کے اندر دین کی خاطر فدا ہوجانے کا جذبہ بھڑکنا چاہيے، نہ کہ عذرات تلاش کرکے پیچھے رہ جانے کا۔ پھر ایسے کسی عذر کو دینی اور اخلاقی رنگ دینا اور بھی زیادہ برا ہے۔ کیوں کہ یہ بے عملی پر فریب کاری کا اضافہ ہے۔

اس قسم کا مزاج حقیقۃً آدمی کے اندر اس ليے پیدا ہوتا ہے کہ وہ اپنی دنیا کو آخرت کے مقابلہ میں عزیز تر رکھتاہے۔ خطرات کے موقع پر ایسے لوگ دین کی راہ میں آگے بڑھنے سے رکے رہتے ہیں ۔ پھر جب سچے حق پرستوں کو ان کی غیر مصلحت اندیشانہ دینداری کی وجہ سے کبھی کوئی نقصان پہنچ جاتا ہے تو یہ لوگ خوش ہوتے ہیں کہ بہت اچھا ہوا کہ ہم نے اپنے ليے حفاظتی پہلو اختیار کرلیا تھا۔ اس کے برعکس، اگر ایسا ہو کہ سچے حق پرست خطرات کا مقابلہ کریں اور اس میں انھیں کامیابی ہو تو ان لوگوں کے دل تنگ ہوتے ہیں ۔ کیوں کہ ایسا کوئی واقعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ انھوں نے جو پالیسی اختیار کی وہ درست نہ تھی۔

سچے اہل ایمان کے ليے اس دنیا میں ناکامی کا سوال نہیں ۔ ان کی کامیابی یہ ہے کہ خدا ان سے راضی ہو اور یہ ہر حال میں انھیں حاصل ہوتا ہے۔ مومن پر اگر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس کے دل کی انابت کو بڑھاتی ہے۔ اگر اس کو کوئی سکھ ملتاہے تو اس کے اندر احساس مندی کا جذبہ ابھرتاہے اور وہ شکر کرکے خدا کی مزید عنایتوں کا مستحق بنتا ہے۔

’’تم انتظار کرو ہم بھی انتظار کررہے ہیں ‘‘ بظاہر مومنین کا کلمہ ہے۔ مگر حقیقۃً یہ خدا کی طرف سے ہے۔ خدا ان لوگوں سے تہدیدی انداز میں کہہ رہا ہے کہ تم لوگ اہلِ حق کی بربادی کے منتظر ہو، حالاں کہ خدا کے تقدیری نظام کے مطابق انھیں ابدی کامیابی ملنے والی ہے۔ اور تمھارے ساتھ جو ہونا ہے وہ یہ کہ تمھارے جرم کو آخری حد تک ثابت کرکے تم کو دائمی طورپر رسوائی اور عذاب کے حوالے کردیا جائے۔