35:19 ile 35:26 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
وما يستوي الاعمى والبصير ١٩ ولا الظلمات ولا النور ٢٠ ولا الظل ولا الحرور ٢١ وما يستوي الاحياء ولا الاموات ان الله يسمع من يشاء وما انت بمسمع من في القبور ٢٢ ان انت الا نذير ٢٣ انا ارسلناك بالحق بشيرا ونذيرا وان من امة الا خلا فيها نذير ٢٤ وان يكذبوك فقد كذب الذين من قبلهم جاءتهم رسلهم بالبينات وبالزبر وبالكتاب المنير ٢٥ ثم اخذت الذين كفروا فكيف كان نكير ٢٦
وَمَا يَسْتَوِى ٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْبَصِيرُ ١٩ وَلَا ٱلظُّلُمَـٰتُ وَلَا ٱلنُّورُ ٢٠ وَلَا ٱلظِّلُّ وَلَا ٱلْحَرُورُ ٢١ وَمَا يَسْتَوِى ٱلْأَحْيَآءُ وَلَا ٱلْأَمْوَٰتُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُسْمِعُ مَن يَشَآءُ ۖ وَمَآ أَنتَ بِمُسْمِعٍۢ مَّن فِى ٱلْقُبُورِ ٢٢ إِنْ أَنتَ إِلَّا نَذِيرٌ ٢٣ إِنَّآ أَرْسَلْنَـٰكَ بِٱلْحَقِّ بَشِيرًۭا وَنَذِيرًۭا ۚ وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌۭ ٢٤ وَإِن يُكَذِّبُوكَ فَقَدْ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ وَبِٱلزُّبُرِ وَبِٱلْكِتَـٰبِ ٱلْمُنِيرِ ٢٥ ثُمَّ أَخَذْتُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۖ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ ٢٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

یہ ایک حقیقت ہے کہ جو امید روشنی سے کی جاسکتی ہے وہ تاریکی سے نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح سایہ سے جو چیز ملے گی وہ دھوپ سے ملنے والی نہیں۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسانوں میں کچھ آنکھ والے ہوتے ہیں اور کچھ اندھے ہوتے ہیں ۔ آنکھ والا فوراً اپنے راستہ کو دیکھ کر اسے پہچان لیتاہے۔ مگر جو اندھا ہو وہ صرف بھٹکتا پھرے گا۔ اس کو کبھی اپنے راستہ کی پہچان نہیں ہوسکتی۔

اسی طرح اندرونی معرفت کے اعتبار سے بھی دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک جان دار اور دوسرے بے جان۔ جاندار انسان وہ ہے جو باتوںکو اس کی گہرائی کے ساتھ دیکھتا ہے۔ جو لفظی فریب کا پردہ پھاڑ کر معانی کا ادراک کرتا ہے۔ جو سطحی پہلوؤں سے گزر کر حقیقتِ واقعہ کو جاننے کی کوشش کرتا ہے، جو چیزوں کو ان کے جوہر کے اعتبار سے پرکھتا ہے، نہ کہ محض ان کے ظاہر کے اعتبار سے۔ جس کی نگاہ ہمیشہ اصل حقیقت پر رہتی ہے، نہ کہ غیرمتعلق موشگافیوں پر۔ جو اس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ سچائی کو جان لینے کے بعد وہ اپنے آپ کو اس سے وابستہ نہ کرے۔ یہی جاندار لوگ ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جن کو موجودہ دنیا میں حق کو قبول کرنے کي توفیق ملتی ہے۔ اور جو لوگ اس کے برعکس صفات رکھتے ہوں، وہ مردہ انسان ہیں۔ وہ امتحان کی اس دنیا میں کبھی قبول حق کی توفیق نہیں پاتے۔ وہ دعوت حق کے مقابلہ میں اندھے بنے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ مرکر خدا کے یہاں چلے جاتے ہیں تاکہ اپنے اندھے پن کا انجام بھگتیں۔