34:12 ile 34:13 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
ولسليمان الريح غدوها شهر ورواحها شهر واسلنا له عين القطر ومن الجن من يعمل بين يديه باذن ربه ومن يزغ منهم عن امرنا نذقه من عذاب السعير ١٢ يعملون له ما يشاء من محاريب وتماثيل وجفان كالجواب وقدور راسيات اعملوا ال داوود شكرا وقليل من عبادي الشكور ١٣
وَلِسُلَيْمَـٰنَ ٱلرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌۭ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌۭ ۖ وَأَسَلْنَا لَهُۥ عَيْنَ ٱلْقِطْرِ ۖ وَمِنَ ٱلْجِنِّ مَن يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِۦ ۖ وَمَن يَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ أَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ ٱلسَّعِيرِ ١٢ يَعْمَلُونَ لَهُۥ مَا يَشَآءُ مِن مَّحَـٰرِيبَ وَتَمَـٰثِيلَ وَجِفَانٍۢ كَٱلْجَوَابِ وَقُدُورٍۢ رَّاسِيَـٰتٍ ۚ ٱعْمَلُوٓا۟ ءَالَ دَاوُۥدَ شُكْرًۭا ۚ وَقَلِيلٌۭ مِّنْ عِبَادِىَ ٱلشَّكُورُ ١٣
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

حضرت سلیمان علیہ السلام نے سمندری سفر اور سمندری تجارت کو بہت ترقی دی تھی۔ انھوں نے اعلیٰ درجہ کے بادبانی جہاز تیار کيے۔ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا مزید فضل یہ ہوا کہ ان کے سمندری جہازوں کو اکثر موافق ہوا ملتی تھی۔ اس طرح تانبا پگھلا کر سامان بنانے کا فن بھی ان کے زمانہ میں بہت ترقی کر گیا۔ ان غیر معمولی قوتوں سے حضرت سلیمان مختلف قسم کے تعمیری اور اصلاحی کام لیتے تھے۔ انھیں میں سے ان چیزوں کی تیاری بھی تھی جن کا ذکر آیت میں کیاگیا ہے۔

انسان سراپا خدا کا احسان ہے۔اس ليے اس کے اندر سب سے زیادہ خدا کے شکر اور احسان مندی کا جذبہ ہونا چاہيے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جو انسان کے اندر سب سے کم پائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں انسان کو جوکچھ ملتا ہے وہ اسباب کے پردہ میں ملتاہے۔ اس ليے آدمی اس کو اسباب کا نتیجہ سمجھ لیتا ہے۔ مگر یہی انسان کا اصل امتحان ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اسباب کے ذریعہ ملتی ہوئی چیز کو خدا سے ملتاہوا دیکھے۔ بظاہر اپنی عقل اور محنت سے حاصل ہونے والی چیز کو براہِ راست خدا کا عطیہ سمجھے۔