26:60 ile 26:68 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
فاتبعوهم مشرقين ٦٠ فلما تراءى الجمعان قال اصحاب موسى انا لمدركون ٦١ قال كلا ان معي ربي سيهدين ٦٢ فاوحينا الى موسى ان اضرب بعصاك البحر فانفلق فكان كل فرق كالطود العظيم ٦٣ وازلفنا ثم الاخرين ٦٤ وانجينا موسى ومن معه اجمعين ٦٥ ثم اغرقنا الاخرين ٦٦ ان في ذالك لاية وما كان اكثرهم مومنين ٦٧ وان ربك لهو العزيز الرحيم ٦٨
فَأَتْبَعُوهُم مُّشْرِقِينَ ٦٠ فَلَمَّا تَرَٰٓءَا ٱلْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَـٰبُ مُوسَىٰٓ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ ٦١ قَالَ كَلَّآ ۖ إِنَّ مَعِىَ رَبِّى سَيَهْدِينِ ٦٢ فَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنِ ٱضْرِب بِّعَصَاكَ ٱلْبَحْرَ ۖ فَٱنفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍۢ كَٱلطَّوْدِ ٱلْعَظِيمِ ٦٣ وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ ٱلْـَٔاخَرِينَ ٦٤ وَأَنجَيْنَا مُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُۥٓ أَجْمَعِينَ ٦٥ ثُمَّ أَغْرَقْنَا ٱلْـَٔاخَرِينَ ٦٦ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةًۭ ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ ٦٧ وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ ٦٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

فرعون بنی اسرائیل کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں پہنچ گیا جہاں بنی اسرائیل کے آگے سمندر تھا اور پیچھے فرعون اور اس کا لشکر۔ بنی اسرائیل اس نازک صورت حال کو دیکھ کر گھبرا اٹھے۔ بائبل کے بیان کے مطابق وہ موسیٰ سے کہنے لگے ’’کیا مصر میں قبریں نہ تھیں کہ تم ہم کو وہاں سے مرنے کے ليے بیابان میں لے آیا ہے‘‘۔

مگر حضرت موسیٰ کو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرمائے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر حضرت موسیٰ نے اپنا عصا سمندر کے پانی پر مارا۔ پانی بیچ سے پھٹ گیا۔ دونوں طرف اونچی دیواروں کی مانند پانی کھڑا ہوگیا۔ اور درمیان میں خشک راستہ نکل آیا۔ بنی اسرائیل اس راستہ سے پار ہو کر اگلے کنارہ پر پہنچ گئے۔

یہ منظر دیکھ کر فرعون نے سمجھا کہ وہ بھی اس کھلے ہوئے راستہ سے پار ہوسکتا ہے۔ اس کو معلوم نہ تھا کہ یہ راستہ نہیں ہے بلکہ خدا کا حکم ہے۔ فرعون اپنے پورے لشکر کے ساتھ اس کے اندر داخل ہوگیا۔ جیسے ہی وہ لوگ بیچ میں پہنچے خدا کے حکم سے سمندر کا کھڑا ہوا پانی دونوں طرف سے مل کر برابر ہوگیا۔ فرعون اپنے تمام لشکر کے ساتھ دفعۃً غرق ہوگیا۔ ایک ہی نقشہ میںایک گروہ کے ليے نجات چھپی ہوئی تھی اور دوسرے گروہ کے ليے ہلاکت۔