18:25 ile 18:26 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
ولبثوا في كهفهم ثلاث ماية سنين وازدادوا تسعا ٢٥ قل الله اعلم بما لبثوا له غيب السماوات والارض ابصر به واسمع ما لهم من دونه من ولي ولا يشرك في حكمه احدا ٢٦
وَلَبِثُوا۟ فِى كَهْفِهِمْ ثَلَـٰثَ مِا۟ئَةٍۢ سِنِينَ وَٱزْدَادُوا۟ تِسْعًۭا ٢٥ قُلِ ٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا۟ ۖ لَهُۥ غَيْبُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ أَبْصِرْ بِهِۦ وَأَسْمِعْ ۚ مَا لَهُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَلِىٍّۢ وَلَا يُشْرِكُ فِى حُكْمِهِۦٓ أَحَدًۭا ٢٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

قتادہ اور مطرف بن عبد اللہ کی تفسیر کے مطابق 300 سال یا 309 سال لوگوں کے قول کی حکایت ہے، نہ کہ خداکی طرف سے خبر۔ عبد اللہ بن مسعود کی قرأت سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ اس زمانہ کے اہلِ کتاب غیر مستند قصوں کی بنیاد پر یہ سمجھتے تھے کہ غار میںاصحاب کہف کے قیام کی مدت شمسي کیلنڈر کے لحاظ سے 300 سال ہے اور قمری کیلنڈر کے لحاظ سے 309 سال (تفسیر ابن کثیر، جلد 5، صفحہ 151 ) قرآن نے لوگوں کے اس خیال کو نقل کیا۔ مگر اسی کے ساتھ یہ کہہ کر اس کو بے بنیاد قرار دے دیا کہ قُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا (کہو کہ اللہ زیادہ جانتا ہے کہ وہ غار میں کتناٹھہرے)۔

موجودہ زمانہ کے محققین نے دریافت کیا ہے کہ یہ مدت شمسی کیلنڈر کے لحاظ سے 196 سال تھی۔ یہ تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے جو تمام اگلی پچھلی باتوں سے باخبر ہے۔ اور اسی علم کی بنا پر اس نے مذکورہ قول کو قبول نہیں کیا۔ قرآن اگر کوئی انسانی کلام ہوتا تو یقیناً وہ اپنے زمانہ کے مشہور قول کو لے لیتا جو بالآخر بعد کی تحقیق سے ٹکرا جاتا۔