17:85 ile 17:86 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
ويسالونك عن الروح قل الروح من امر ربي وما اوتيتم من العلم الا قليلا ٨٥ ولين شينا لنذهبن بالذي اوحينا اليك ثم لا تجد لك به علينا وكيلا ٨٦
وَيَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلرُّوحِ ۖ قُلِ ٱلرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّى وَمَآ أُوتِيتُم مِّنَ ٱلْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًۭا ٨٥ وَلَئِن شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهِۦ عَلَيْنَا وَكِيلًا ٨٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًاروح کے بارے میں یہ سوال ان تین سوالات میں سے تھا جو ایک مرتبہ مدینہ کے یہودیوں نے قریش مکہ کے ذریعے رسول اللہ سے پوچھ بھیجے تھے۔ ان میں سے ایک سوال اصحاب کہف کے بارے میں تھا اور دوسرا ذوالقرنین کے بارے میں۔ ان دونوں سوالات کے تفصیلی جوابات سورة الکہف میں دیے گئے ہیں مگر روح کے متعلق سوال کا انتہائی مختصر جواب اس سورت میں دیا گیا ہے۔اس بارے میں یہاں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ روح کا تعلق عالم امر سے ہے اور عالم امر چونکہ عالم غیب ہے اس لیے اس کے بارے میں تم لوگ کچھ نہیں جان سکتے۔ انسان کے علم کا ذریعہ اس کے حواس ہیں اور اپنے ان حواس کے ذریعے وہ صرف عالم خلق کی چیزوں کے بارے میں جان سکتا ہے عالم غیب عالم امر تک اس کا علم رسائی حاصل نہیں کرسکتا۔ چناچہ عالم غیب کی باتوں کو اسے ویسے ہی ماننا ہوگا جیسے قرآن اور رسول کے ذریعے سے بتائی گئی ہوں۔ اسی کا نام ایمان بالغیب ہے جس کا ذکر قرآن مجید کے آغاز میں ہی کردیا گیا ہے : الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بالْغَیْبِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ البقرۃ قبل ازیں سورة الاعراف کی آیت 54 اور سورة النحل کی آیت 40 کی تشریح کے ضمن میں عالم خلق اور عالم امر کے بارے میں تفصیلی بحث کی جاچکی ہے۔ وہاں یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ فرشتوں انسانی ارواح اور وحی کا تعلق عالم امر سے ہے۔