قتادہ نے کہا ہے کہ ’’میں نے دیکھا‘‘ مت کہو جب کہ تم نے دیکھا نہ ہو۔ ’’میں نے سنا‘‘ مت کہو جب کہ تم نے سنا نہ ہو۔ ’’میں نے جانا‘‘ مت کہو جب کہ تم نے جانا نہ ہو )لَا تَقُلْ رَأَيْتُ وَلَمْ تَرَ، وَسَمِعْتُ وَلَمْ تَسْمَعْ، وَعَلِمْتُ وَلَمْ تَعْلَمْ) تفسیر الطبری، جلد
جس آدمی کو اس بات کا ڈر ہو کہ خدا کے یہاں ہر بات کی پوچھ ہوگی وہ کبھی بے تحقیق بات اپنی زبان سے نہیں نکالے گا اور نہ آنکھ بند کرکے بے تحقیق بات کی پیروی کرے گا۔ انسان کو چاہیے کہ وہ کان اور آنکھ اور دماغ سے وہ کام لے جس کے لیے وہ بنائے گئے ہیں اور وہی بات منھ سے نکالے یا عمل میں لائے جو پوری طرح ثابت ہوچکی ہو۔ اس حکم میں تمام بے بنیاد چیزیں آگئیں۔ مثلاً جھوٹی گواہی دینا، غلط تہمت لگانا، سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر کسی کے درپے ہوجانا، محض تعصب کی بنا پر ناحق بات کی حمایت کرنا، ایسی چیزوں کے پیچھے پڑنا جن کو اپنی محدودیت کی بناپر انسان جان نہیں سکتا — سمع و بصر وفواد بظاہر انسان کے قبضہ میں ہیں۔ مگر یہ انسان کے پاس بطور امانت ہیں۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ ان چیزوں کو خدا کی منشاء کے مطابق استعمال کرے۔ ورنہ ان کی بابت اس سے سخت باز پرس ہوگی۔
انسان ایک ایسی زمین پر ہے جس کو وہ پھاڑ نہیں سکتا، وہ ایک ایسے ماحول میں ہے جہاں اونچے اونچے پہاڑ اس کی ہر بلندی کی نفی کررہے ہیں۔ یہ خدا کے مقابلے میں انسان کی حیثیت کا ایک تمثیلی اعلان ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آدمی دنیا میں متکبربن کر نہ رہے۔ وہ عجز اور تواضع کا طریقہ اختیار کرے، نہ کہ اکڑنے اور سرکشی کرنے کا۔