คุณกำลังอ่านตัฟซีร สำหรับกลุ่มอายะห์ที่ 4:58 ถึง 4:63
۞ ان الله يامركم ان تودوا الامانات الى اهلها واذا حكمتم بين الناس ان تحكموا بالعدل ان الله نعما يعظكم به ان الله كان سميعا بصيرا ٥٨ يا ايها الذين امنوا اطيعوا الله واطيعوا الرسول واولي الامر منكم فان تنازعتم في شيء فردوه الى الله والرسول ان كنتم تومنون بالله واليوم الاخر ذالك خير واحسن تاويلا ٥٩ الم تر الى الذين يزعمون انهم امنوا بما انزل اليك وما انزل من قبلك يريدون ان يتحاكموا الى الطاغوت وقد امروا ان يكفروا به ويريد الشيطان ان يضلهم ضلالا بعيدا ٦٠ واذا قيل لهم تعالوا الى ما انزل الله والى الرسول رايت المنافقين يصدون عنك صدودا ٦١ فكيف اذا اصابتهم مصيبة بما قدمت ايديهم ثم جاءوك يحلفون بالله ان اردنا الا احسانا وتوفيقا ٦٢ اولايك الذين يعلم الله ما في قلوبهم فاعرض عنهم وعظهم وقل لهم في انفسهم قولا بليغا ٦٣
۞ إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا۟ ٱلْأَمَـٰنَـٰتِ إِلَىٰٓ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحْكُمُوا۟ بِٱلْعَدْلِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ سَمِيعًۢا بَصِيرًۭا ٥٨ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَأُو۟لِى ٱلْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَـٰزَعْتُمْ فِى شَىْءٍۢ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌۭ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا ٥٩ أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ ءَامَنُوا۟ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوٓا۟ إِلَى ٱلطَّـٰغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوٓا۟ أَن يَكْفُرُوا۟ بِهِۦ وَيُرِيدُ ٱلشَّيْطَـٰنُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَـٰلًۢا بَعِيدًۭا ٦٠ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا۟ إِلَىٰ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَإِلَى ٱلرَّسُولِ رَأَيْتَ ٱلْمُنَـٰفِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًۭا ٦١ فَكَيْفَ إِذَآ أَصَـٰبَتْهُم مُّصِيبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ جَآءُوكَ يَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ إِنْ أَرَدْنَآ إِلَّآ إِحْسَـٰنًۭا وَتَوْفِيقًا ٦٢ أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ يَعْلَمُ ٱللَّهُ مَا فِى قُلُوبِهِمْ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ وَقُل لَّهُمْ فِىٓ أَنفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِيغًۭا ٦٣
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

ہر ذمہ داری ایک امانت ہے اور اس کو ٹھیک ٹھیک اداکرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب کسی سے معاملہ پڑے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ وهي کرے جو انصاف کا تقاضا ہو، خواہ معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بظاہر اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے خلاف نظر آئے تب بھی اس کو انصاف اور سچائی ہی کے طریقے پر قائم رہنا ہے۔ کیوں کہ بہتری ا س میں ہے جو اللہ بتائے، نہ کہ اس میں جو ہمارے نفس کو پسند ہو۔ جهاں كهيں مسلم حکومت قائم هے وهاں كے مسلمانوں كو چاهيے كه وه اس كے قوانين كي پاسداري كريں اور اگر حکومتی معاملات میں پرامن طور پر حصہ لینے کا موقع ہو تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس میں حصہ لیں۔ ایسے مواقع نہ ہونے کی شکل میں، یعنی جهاں اسلامي حكومت قائم نهيں هے تو وهاں وه اپنے اندر كے قابلِ اعتماد افراد کو اپنا سربراہ بنالیں اور ان کی ہدایات لیتے ہوئے دینی زندگی گزاریں۔ جب کسی معاملہ میں اختلاف ہو تو ہر فریق پر لازم هے کہ وہ اس بات کو مان لے جو اللہ اور رسول کی طرف سے آرہی ہو۔ہر آدمی کو اختلاف رائے کی آزادی ہے مگر اجتماعی فیصلہ کو نہ ماننے کی آزادی کسی کو بھی حاصل نہیں۔ اجتماعی نظام مسلم معاشرہ کی اجتماعی ضرورت ہے۔

مدینہ کے ابتدائی زمانہ میں اختلافی معاملات میں فیصلہ لینے کے لیے بیک وقت دو عدالتیں پائی جاتی تھیں۔ ایک، یہودي سرداروں کی جو پہلےسے چلی آرہی تھی۔ دوسری، رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہجرت کے بعد قائم ہوئی۔ مسلمانوں میں جو لوگ اپنے مفاد کی قربانی کی قیمت پر دینداربننے کے لیے تیار نہ تھے وہ ایسا کرتے کہ جب ان کو اندیشہ ہوتا کہ ان کا مقدمہ کمزور ہے اور وہ رسولِ خدا کی عدالت سے اپنے موافق فیصلہ نہ لے سکیں گے تو وہ کعب بن اشرف یہودی کی عدالت میں چلے جاتے۔ یہ بات سراسر ایمان کے خلاف ہے ۔ آدمی اگر اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو بلکہ اپنی پسند کافیصلہ لینا چاہے تو اس کا ایمان کا دعویٰ جھوٹا ہے، خواہ وہ اپنے رویہ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے کتنے ہی خوب صورت الفاظ اپنے پاس رکھتا ہو۔ تاہم ایسے لوگوں سے نہ الجھتے ہوئے ان کو مؤثر انداز میں نصیحت کرنے کا کام پھر بھی جاری رہنا چاہیے۔