ولقد صدق عليهم ابليس ظنه فاتبعوه الا فريقا من المومنين ٢٠ وما كان له عليهم من سلطان الا لنعلم من يومن بالاخرة ممن هو منها في شك وربك على كل شيء حفيظ ٢١
وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُۥ فَٱتَّبَعُوهُ إِلَّا فَرِيقًۭا مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٢٠ وَمَا كَانَ لَهُۥ عَلَيْهِم مِّن سُلْطَـٰنٍ إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يُؤْمِنُ بِٱلْـَٔاخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِى شَكٍّۢ ۗ وَرَبُّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ حَفِيظٌۭ ٢١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
ابلیس یا اس کے نمائندے ہمیشہ انسان کے خلاف اپنا منصوبہ بناتے ہیں۔ ایسے موقع پر انسان کا کام یہ ہے کہ وہ ان کے منصوبہ کا شکار نہ ہو۔ اور اس طرح وہ ان کو ناکام بنادے۔ مگر سبا کے لوگ دوسرے لوگوں کی طرح اس دانائی کا ثبوت نہ دے سکے۔ وہ شیطانی ترغیبات کے زیر اثر آکر تباہی کے راستہ پر چل پڑے۔ صرف تھوڑے سے حق پرست تھے جو اس امتحان میں کامیاب ہوئے۔
شیطان کو یا اس کے نمائندہ کو خدا نے کسی کے اوپر عملی اختیار نہیں دیا ہے۔ اس کو صرف بہکانے کا اختیار ہے۔ یہ اس ليے ہے تاکہ انسان کو آزمائش ہو۔ اس آزمائش میں پورا اترنے والا شخص وہ ہے جو شیطانی ترغیبات سے غیر متاثر رہ کر حق وصداقت پر قائم رہے۔