انہوں نے سخت گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہے اور یہ اس کی پوری سزا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تو کتاب اس لئے بھیجی تھی کہ اسے لوگوں تک پہنچایا جائے ، اسے زمین پر نافذ کیا جائے ۔ اور وہ ان کا قانون ہو ، ان کا نظام زندگی ہو ، لیکن ان ظالموں نے اس کو چھپالیا ۔ اسے چھپا کر میدان عمل سے خارج کردیا ۔ حالانکہ وہ ایک ایسی سچائی تھی جس پر عمل کرنے کی غرض سے بھیجا گیا تھا۔ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ نَزَّلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ ” یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ نے تو ٹھیک حق کے مطابق کتاب نازل کی تھی ۔ “ اور جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئے وہ ہدایت پر آگئے ، حق کے ساتھی بن گئے ، ان لوگوں کے ٹولے میں آگئے جو حق کے راہ یاب تھے ۔ انہوں نے فطرت کائنات کا ساتھ دیا اور فطرت کے حقیقی اصولوں پر آگئے ۔
وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِي الْكِتَابِ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ ” مگر جن لوگوں نے کتاب میں اختلاف نکالے وہ اپنے جھگڑوں میں حق سے بہت دور نکل گئے۔ “ ایسے لوگ حق سے دور جاچکے ہیں ۔
وہ اصول فطرت سے بھی ٹکراتے ہیں ۔ وہ خود ایک دوسرے سے بلکہ خود اپنے نفس سے بھی ٹکراتے ہیں ۔ وہ اس طرح تھے اور اسی طرح رہیں گے ۔ یہی حال ہوگا ہر اس امت کا جو کتاب اللہ میں جھگڑے ڈالتی ہے ۔ کتاب الٰہی کو پورے طور قبول نہیں کرتی ۔ بلکہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتی ہے ۔ ہر دور اور ہر زمانے میں ، ہر امت اور ہر قوم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہی سلوک ہے ۔ جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں ، اس آیت کا مصداق ہمیں اچھی طرح نظر آرہا ہے ۔
سب سے آخر میں ایک اور صرف ایک آیت میں ایمانی تصور زندگی کے تمام اصول رکھ دیئے جاتے ہیں ۔ ایمانی طرز عمل کا معیار بیان کردیا جاتا ہے اور بتادیا جاتا ہے کہ قرآن کی رو سے نیک لوگوں کی صفات کیا ہیں ؟