คุณกำลังอ่านตัฟซีร สำหรับกลุ่มอายะห์ที่ 23:112 ถึง 23:114
قال كم لبثتم في الارض عدد سنين ١١٢ قالوا لبثنا يوما او بعض يوم فاسال العادين ١١٣ قال ان لبثتم الا قليلا لو انكم كنتم تعلمون ١١٤
قَـٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِى ٱلْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ ١١٢ قَالُوا۟ لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍۢ فَسْـَٔلِ ٱلْعَآدِّينَ ١١٣ قَـٰلَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًۭا ۖ لَّوْ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ١١٤
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

عیش وہی ہے جو ابدی ہو۔ جو عیش ابدی نہ ہو وہ جب ختم ہوتا ہے تو ایسامعلوم ہوتا ہے کہ وہ بس ایک لمحہ تھا جو آیا اور گزر گیا۔

دنیا کی زندگی میں آدمی اس حقیقت کو بھولا رہتاہے۔ مگر آخرت میں یہ حقیقت اس پر آخری حد تک کھل جائے گی۔ اس وقت وہ جانے گا۔ مگر اس وقت جاننے کا کوئی فائدہ نہیں۔

دنیا میں آدمی کے سامنے حق آتاہے مگر وہ اپنے سکون کو برہم کرنا نہیں چاہتا اس ليے وہ اس کو قبول نہیںکرتا۔ وہ ملنے والے فائدے کی خاطر ملے ہوئے فائدہ کو چھوڑنے کے ليے تیار نہیںہوتا۔ یہاں کی عزت، یہاں کا آرام، یہاں کی مصلحتیں اس کو اتنی قیمتی معلوم ہوتی ہیں کہ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کس طرح ایسا کرے کہ ’’چیز‘‘ کو نظر انداز کرکے اپنے آپ کو ’’بے چیز‘‘ سے وابستہ کرلے۔ حالاں کہ جب عمر کی مہلت پوری ہوگی تو سو سال بھی ایسا معلوم ہوگا جیسے کہ وہ بس ایک دن تھا جو آیا اور ختم ہوگیا۔