Unasoma tafsir kwa kundi la aya 4:136 hadi 4:139
يا ايها الذين امنوا امنوا بالله ورسوله والكتاب الذي نزل على رسوله والكتاب الذي انزل من قبل ومن يكفر بالله وملايكته وكتبه ورسله واليوم الاخر فقد ضل ضلالا بعيدا ١٣٦ ان الذين امنوا ثم كفروا ثم امنوا ثم كفروا ثم ازدادوا كفرا لم يكن الله ليغفر لهم ولا ليهديهم سبيلا ١٣٧ بشر المنافقين بان لهم عذابا اليما ١٣٨ الذين يتخذون الكافرين اولياء من دون المومنين ايبتغون عندهم العزة فان العزة لله جميعا ١٣٩
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ ءَامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَٱلْكِتَـٰبِ ٱلَّذِى نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَٱلْكِتَـٰبِ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ مِن قَبْلُ ۚ وَمَن يَكْفُرْ بِٱللَّهِ وَمَلَـٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَـٰلًۢا بَعِيدًا ١٣٦ إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ثُمَّ كَفَرُوا۟ ثُمَّ ءَامَنُوا۟ ثُمَّ كَفَرُوا۟ ثُمَّ ٱزْدَادُوا۟ كُفْرًۭا لَّمْ يَكُنِ ٱللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًۢا ١٣٧ بَشِّرِ ٱلْمُنَـٰفِقِينَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ١٣٨ ٱلَّذِينَ يَتَّخِذُونَ ٱلْكَـٰفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۚ أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ ٱلْعِزَّةَ فَإِنَّ ٱلْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًۭا ١٣٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

’’ایمان والوایمان لاؤ‘‘ ایسا ہی ہے جیسے کہا جائے کہ مسلمانوں مسلمان بنو۔ اپنے کو مسلمان کہنا یا مسلمان سمجھنا اس بات کے لیے کافی نہیں ہے کہ آدمی اللہ کے یہاں بھی مسلمان قرار پائے۔ اللہ کے یہاں صرف وہ شخص مسلمان قرار پائے گا جو اللہ کو اس طرح پائے کہ وہی اس کے یقین واعتماد کا مرکز بن جائے۔ جو رسول کو اس طرح مانے کہ ہر دوسری رہنمائی اس کے لیے بے حقیقت ہوجائے۔ جو آسمانی کتاب کو اس طرح اپنائے کہ اس کی سوچ اور جذبات بالکل اس کے تابع ہوجائیں۔ جو فرشتوں کے عقیدہ کو اس طرح اپنے دل میں بٹھائے کہ اس کو محسوس ہونے لگے کہ اس کے دائیں بائیں ہر وقت خدا کے چوکیدار کھڑے ہوئے ہیں۔ جو آخرت کا اس طرح اقرار کرے کہ وہ اپنے ہر قول وفعل کو آخرت کی میزان پر جانچنے لگے۔ جو شخص اس طرح مومن بنے وہی اللہ کے نزدیک اس راستہ پر ہے جو ہدایت اور کامیابی کا راستہ ہے۔ اور جو شخص اس طرح مومن نہ بنے وہ ایک بھٹکا ہوا انسان ہے، خواہ وہ اپنے آپ خود کو کتنا ہی مومن ومسلم سمجھتا ہو۔

ماننے اور نہ ماننے کا یہ معرکہ آدمی کی زندگی میں ہر وقت جاری رہتا ہے۔ جب بھی کوئی معاملہ پڑتا ہے تو آدمی کا ذہن دو میں سے کسی ایک رخ پر چل پڑتا ہے۔ یا خواہشات کی طرف یا حق کے تقاضے پورے کرنے کی طرف۔ اگر ایسا ہو کہ معاملہ کے وقت آدمی کی سوچ اور جذبات خواہش کی سمت میں چل پڑیں تو گویا ایمان لانے والے نے ایمان سے انکار کیا۔ ا س کے برعکس، اگر وہ اپنی سوچ اور جذبات کو حق کا پابند بنا لے تو گویا ایمان لانے والا ایمان لے آیا۔ آدمی مسلمان بن کر دنیا کی زندگی میں داخل ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک حق بات اس کے سامنے آتی ہے۔ اب ایک شخص وہ ہے جو ایسے موقع پر تواضع کا رویہ اختیار کرے اور حق کا اعتراف کرے۔ دوسرا شخص وہ ہے جس کے اندر کبر کی نفسیات جاگ اٹھیں اور وہ حق بات کو ٹھکرادے۔ پہلی صورت ایمان کی صورت ہے اور دوسری صورت ایمان کا انکار کرنے کی۔ جو شخص سچا مومن نہ ہو وہ دنیا کی عزت و جاہ کو پسند کرتا ہے اس لیے وہ ان لوگوں کی طرف جھک پڑتا ہے جن سے منسوب ہو کر اس کی عزت وجاہ میں اضافہ ہو، خواہ وہ اہلِ باطل ہوں۔ اس کو ان لوگوں سے دل چسپی نہیں ہوتی جن سے منسوب ہونا اس کی عزت وجاہ میں اضافہ نہ کرے، خواہ وہ اہلِ حق ہوں۔