قدیم مکہ میں جن لوگوں نے پیغمبر کا ساتھ دے کر بے آمیز دین کو اپنا دین بنایا تھا ان کے لیے یہ اقدام کوئی سادہ چیز نہ تھی۔ یہ مفادات سے وابستہ نظام کو چھوڑ کر ایک ایسے عقیدہ کا ساتھ دینا تھا جس سے بظاہر کوئی مفاد وابستہ نہ تھا۔ پہلا گروہ نئے دین کو اختیار کرتے ہی وقت کے جمے ہوئے نظام سے کٹ گیا تھاجب کہ دوسرا گروہ پوری طرح وقت کے جمے ہوئے نظام کے زور پر کھڑا ہوا تھا۔ پہلے گروہ کے پاس صرف خدا کی یاد کی باتیں تھیں جس کی اہمیت آخرت میں ظاہر ہوگی جب کہ دوسرا گروہ ان چیزوں کا مالک بنا ہوا تھا جس کی قیمت اسی دنیا کے بازار میں ہوتی ہے۔
یہ ظاہری فرق اگر داعی کو متاثر کردے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دین کی بے آمیز دعوت کی اہمیت اس کی نظرمیں کم ہوجائے گی۔ اور آمیزش والا دین اس کی نظر میں اہمیت اختیار کرلے گا جس کا علم بردار بن کر لوگ دنیا کی رونقیں حاصل کيے ہوئے ہیں۔
مگر یہ بہت بڑی بھول ہے۔ کیوں کے یہ اس اصل مشن سے ہٹنا ہے جو خدا کو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ داعی اگر ایسا کرے تو وہ خدا کی مدد سے محروم ہوجائے گا۔ وہ خدا کی دنیا میں ایسا ہوجائے گا کہ کوئی درخت اس کو سایہ نہ دے اور کوئی پانی اس کی پیاس نہ بجھائے۔ چنانچہ ابن جریر نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ اے محمد، اگر تم نے لوگوں کو قرآن نہ سنایا تو خداکے مقابلہ میں تمھارے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی (يَقُولُ إِنْ أَنْتَ يَا مُحَمَّدُ لَمْ تَتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ، فَإِنَّهُ لَا مَلْجَأَ لَكَ مِنَ اللَّهِ كَمَا قَالَ تَعَالَىيَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ [