Unasoma tafsir kwa kundi la aya 17:107 hadi 17:109
قل امنوا به او لا تومنوا ان الذين اوتوا العلم من قبله اذا يتلى عليهم يخرون للاذقان سجدا ١٠٧ ويقولون سبحان ربنا ان كان وعد ربنا لمفعولا ١٠٨ ويخرون للاذقان يبكون ويزيدهم خشوعا ۩ ١٠٩
قُلْ ءَامِنُوا۟ بِهِۦٓ أَوْ لَا تُؤْمِنُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ مِن قَبْلِهِۦٓ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًۭا ١٠٧ وَيَقُولُونَ سُبْحَـٰنَ رَبِّنَآ إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًۭا ١٠٨ وَيَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًۭا ۩ ١٠٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

خدا کا کلام انسان سے عجزو تواضع کا تقاضا کرتا ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں خدا اپنا کلام خود سنانے نہیں آتا۔ وہ ایک ’’انسان‘‘ کی زبان سے اپنا کلام جاری کراتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر کبر کی نفسیات لیے ہوئے ہیں، وہ اس کے آگے جھکنے کو ایک انسان کے آگے جھکنے کے ہم معنی بنا لیتے ہیں اور اس بنا پر اس کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔

اس کے برعکس، جو لوگ کبر کی نفسیات سے خالی ہوں وہ خدا کے کلام کو بس خدا کے کلام کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ ان کو انسان کی زبان سے جاری ہونے والے کلام میں خدا کی جھلکیاں نظر آجاتی ہیں۔ وہ اس کے ذریعہ خدا سے مربوط ہوجاتے ہیں۔ وہ خداکی بڑائی کے مقابلہ میں اپنے عجز کو اور اپنے عجز کے مقابلہ میں خدا کی بڑائی کو پالیتے ہیں۔ یہ احساس ان کے سینے کو پگھلادیتا ہے۔ وہ روتے ہوئے اس کے آگے سجدہ میں گر پڑتے ہیں۔

پہلی قسم کے آدمیوں کی مثال قریش کے سرداروں کی ہے۔ اور دوسری قسم کے آدمیوں کی مثال اہلِ کتاب کے ان مومنین کی جو دورِ اول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔

اس آیت میں بظاہر صالحین اہلِ کتاب کا ذکر ہے۔ انھوں نے قدیم آسمانی صحیفوں میں پڑھا تھا کہ ایک آخری پیغمبر آنے والے ہیں۔ جو لوگ ان پر ایمان لائیں گے اور ان کا ساتھ دیں گے وہ خدا کی خصوصی رحمت کے مستحق قرار پائیںگے۔ اس بنا پر وہ اس آخری نبی کا پہلے سے انتظار کررہے تھے۔ یہ انتظار اتنا شدید تھا کہ جب وہ پیغمبر آیا تو انھوں نے فوراً اس کو پہچان لیا۔ ان کا یہ حال ہوا کہ اس پیغمبر کی لائی ہوئی کتاب (قرآن) کو جب وہ پڑھتے تو شدت احساس سے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے اور وہ روتے ہوئے خدا کے آگے سجدہ میں گرجاتے۔

تاہم یہ صرف اہلِ کتاب کے ایک گروہ کا معاملہ نہیں ہے بلکہ وہ سارے انسانوں کا معاملہ ہے۔ ہرانسان کے اندر خدا نے پیشگی طورپر حق کی معرفت رکھ دی ہے، گویا کہ ہر انسان پہلے ہی سے خدائی سچائی کا منتظر ہے۔ اب جو لوگ اپنی اس فطرت کو زندہ رکھیں ان کا وہی حال ہوگا جو سابق اہل کتاب کا ہوا۔ وہ اپنی فطرت کے زندہ شعور کی بناپر خدائی سچائی کو پہچان لیں گے اور دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اس کی طرف بے تابانہ دوڑ پڑیںگے۔