سبحان الذي اسرى بعبده ليلا من المسجد الحرام الى المسجد الاقصى الذي باركنا حوله لنريه من اياتنا انه هو السميع البصير ١
سُبْحَـٰنَ ٱلَّذِىٓ أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِۦ لَيْلًۭا مِّنَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ إِلَى ٱلْمَسْجِدِ ٱلْأَقْصَا ٱلَّذِى بَـٰرَكْنَا حَوْلَهُۥ لِنُرِيَهُۥ مِنْ ءَايَـٰتِنَآ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْبَصِيرُ ١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

ہجرت سے ایک سال پہلے مکہ کے حالات بے حد سخت تھے۔ ایسا معلوم ہوتاتھا کہ اسلام کی تاریخ بننے سے پہلے ختم ہوجائے گی۔عین اس وقت اللہ نے پیغمبر اسلام کو ایک عظیم نشانی دکھائی۔ یہ نشانی اس حقیقت کا محسوس مظاہرہ تھا کہ اسلام کی تاریخ نہ صرف یہ کہ اپنی تکمیل تک پہنچے گی۔ بلکہ اس کے گرد ایسے عملی حالات جمع کيے جائیں گے کہ وہ ابدی طورپر زندہ اور محفوظ رہے۔ کیوں کہ اب اسی کو قیامت تک تمام قوموں کے لیے خدا کے دین کا مستند ماخذ قرار پانا ہے۔

اللہ اپنے خصوصی اہتمام کے تحت پیغمبر اسلام کو مکہ سے فلسطین (بیت المقدس) لے گیا۔ یہ جسمانی یا روحانی سفرآپ کے سفر معراج کی پہلی منزل تھی۔ یہاں بیت المقدس میں پچھلے تمام پیغمبر بھی جمع تھے۔ ان سب نے مل کر با جماعت نماز ادا کی اور پیغمبر اسلام نے آگے کھڑے ہو کر ان سب کی امامت فرمائی۔ آپ کی امامت کا یہ واقعہ گویا اس خدائی فیصلہ کی ایک علامت تھا کہ پچھلی تمام نبوتیں اب ہدایتِ الٰہی کے مستند ماخذ کی حیثیت سے منسوخ کردی گئیں۔ اب خدائی ہدایت کو جاننے کے لیے تمام قوموں کو پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے دین کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔

اس اہم تقریب کو انجام دینے کے لیے فلسطین موزوں ترین جگہ تھی۔ فلسطین پچھلے اکثر انبیاء کا مرکزِ دعوت رہاہے۔ اس لیے خدا نے اپنے اس فیصلہ کے اظہار کے لیے اسی خاص علاقہ کا انتخاب فرمایا۔