Po lexoni një tefsir për grupin e vargjeve 101:6 deri në 101:11
فاما من ثقلت موازينه ٦ فهو في عيشة راضية ٧ واما من خفت موازينه ٨ فامه هاوية ٩ وما ادراك ما هيه ١٠ نار حامية ١١
فَأَمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَٰزِينُهُۥ ٦ فَهُوَ فِى عِيشَةٍۢ رَّاضِيَةٍۢ ٧ وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَٰزِينُهُۥ ٨ فَأُمُّهُۥ هَاوِيَةٌۭ ٩ وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا هِيَهْ ١٠ نَارٌ حَامِيَةٌۢ ١١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 6{ فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ۔ } ”تو جن لوگوں کے نیکیوں کے پلڑے بھاری ہوں گے۔“ یہاں یہ نکتہ خصوصی طور پر لائق توجہ ہے کہ ان آیات میں ایک ہی قسم کے وزن یا میزان کے ایک ہی پلڑے کا ذکر آیا ہے۔ اس بارے میں عام رائے یہ ہے کہ ”مَوَازین“ سے مراد یہاں نیکیوں کا وزن ہے۔ یعنی حساب کے وقت ہر شخص کی نیکیوں کا وزن کر کے دیکھا جائے گا کہ یہ وزن ”مطلوبہ معیار“ کے مطابق ہے یا نہیں۔ اور یہ ”مطلوبہ معیار“ بھی ہر شخص کا الگ الگ اس کے ”شاکلہ“ کے مطابق ہوگا۔ ظاہر ہے ہر شخص کی استطاعت پیدائشی صلاحیتوں اور ماحول کے منفی و مثبت اثرات کے مطابق دوسرے شخص کی استطاعت سے مختلف ہوگی اور ہر شخص اپنی استطاعت کی حد تک ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں مکلف ہوگا : { لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلاَّ وُسْعَہَاط } البقرۃ : 286 ”اللہ تعالیٰ نہیں ذمہ دار ٹھہرائے گا کسی جان کو مگر اس کی وسعت کے مطابق“۔ چناچہ ہر شخص کے شاکلہ یعنی اس کے جینز genes کی طرف سے اسے حاصل ہونے والی صلاحیتوں اور ماحول کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے لیے نیکیوں کے وزن کا ایک خاص معیار مقرر کیا جائے گا۔ اگر تو اس کی نیکیوں کے وزن مَوَازِیْنُـہٗ کو اس معیار کے مطابق پایا گیا تو اسے کامیابی کا پروانہ مل جائے گا۔