۞ واكتب لنا في هاذه الدنيا حسنة وفي الاخرة انا هدنا اليك قال عذابي اصيب به من اشاء ورحمتي وسعت كل شيء فساكتبها للذين يتقون ويوتون الزكاة والذين هم باياتنا يومنون ١٥٦
۞ وَٱكْتُبْ لَنَا فِى هَـٰذِهِ ٱلدُّنْيَا حَسَنَةًۭ وَفِى ٱلْـَٔاخِرَةِ إِنَّا هُدْنَآ إِلَيْكَ ۚ قَالَ عَذَابِىٓ أُصِيبُ بِهِۦ مَنْ أَشَآءُ ۖ وَرَحْمَتِى وَسِعَتْ كُلَّ شَىْءٍۢ ۚ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلَّذِينَ هُم بِـَٔايَـٰتِنَا يُؤْمِنُونَ ١٥٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 156 وَاکْتُبْ لَنَا فِیْ ہٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے لیے جو دعا کی ‘ یہ وہی الفاظ ہیں جو سورة البقرۃ میں مسلمانوں کو سکھائے گئے ہیں : رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَاحَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ اِنَّا ہُدْنَآ اِلَیْکَ ط۔ یعنی ہم سے جو خطا ہوگئی ہے اس کا اعتراف کرتے ہوئے ہم معافی چاہتے ہیں۔ قَالَ عَذَابِیْٓ اُصِیْبُ بِہٖ مَنْ اَشَآءُج وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ ط rٰ علیہ السلام ٰ علیہ السلام یعنی میری ایک رحمت تو وہ ہے جو ہر شے کے شامل حال ہے ‘ ہر شے پر محیط ہے۔ ہر شے کا وجود اور بقا میری رحمت ہی سے ممکن ہے۔ یہ پوری کائنات اور اس کا تسلسل میری رحمت ہی کا مرہون منت ہے۔ میری اس رحمت عامہ سے میری تمام مخلوقات حصہ پا رہی ہیں ‘ لیکن جہاں تک میری رحمت خاصہ کا تعلق ہے جس کے لیے تم لوگ ابھی سوال کر رہے ہو :