Je leest een tafsir voor de groep verzen 40:45tot 40:46
فوقاه الله سييات ما مكروا وحاق بال فرعون سوء العذاب ٤٥ النار يعرضون عليها غدوا وعشيا ويوم تقوم الساعة ادخلوا ال فرعون اشد العذاب ٤٦
فَوَقَىٰهُ ٱللَّهُ سَيِّـَٔاتِ مَا مَكَرُوا۟ ۖ وَحَاقَ بِـَٔالِ فِرْعَوْنَ سُوٓءُ ٱلْعَذَابِ ٤٥ ٱلنَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّۭا وَعَشِيًّۭا ۖ وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ أَدْخِلُوٓا۟ ءَالَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ ٱلْعَذَابِ ٤٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

فرعون کے دربار کا رجل مومن پیغمبر نہیں تھا۔ مگر تنہا ہونے کے باوجود اللہ نے ا س کو فرعون کے ظالمانہ منصوبوں سے بچالیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ غیر انبیاء کو بھی حمایتِ حق کی وہ نصرت ملتی ہے جس کا وعدہ انبیاء سے کیاگیا ہے۔

انسانوں کے اخروی انجام کا باقاعدہ فیصلہ اگرچہ قیامت میں ہوگا، مگر موت کے بعد جب آدمی اگلی دنیا میں داخل ہوتا ہے تو فوراً ہی اس پر کھل جاتا ہے کہ وہ پچھلی دنیا میں کیا کرکے یہاںآیا ہے اور اب اس کےلیے کون سا انجام مقدر ہے۔ اس طرح شعور کی سطح پر وہ موت کے بعد ہی اپنے انجام سے دوچار ہوجاتاہے۔ اور جسمانی سطح پر وہ قیامت میں خدا کی عدالت قائم ہونے کے بعداس سے دوچار ہوگا۔