قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر خاص خاص اوقات میں اترتاتھا۔ ان مخصوص اوقات کے علاوہ آپ خود بھی اس پر قادر نہ تھے کہ قرآن جیسا کلام وضع کرسکیں۔ دوسرے وقتوں میں آپ کی زبان سے جو کلام نکلتا تھا، وہ ہمیشہ قرآن کے کلام سے مختلف ہوتا تھا۔ جب کبھی لمبی مدت کے لیے وحی رکتی تو آپ بے حد پریشان ہوجاتے۔ مگر آپ کے لیے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ خود یا کسی کی مدد سے قرآن جیسا کلام بنالیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کی زبان اور آپ کی اپنی زبان میں بے حد نمایاں فرق ہوتا تھا۔ یہ فرق آج بھی ہر عربی داں قرآن اور حدیث کی زبان کا تقابل کرکے دیکھ سکتا ہے۔
یہ واقعہ اس بات کا ایک واضح ثبو ت ہے کہ قرآن محمد کا کلام نہیں۔ وہ محمد کے سوا ایک اور برتر ذہن سے نکلا ہوا کلام ہے۔
جو لوگ قرآن کو انسانی کلام کہتے تھے ان سے کہا گیا کہ اگر تمھارا خیال صحیح ہے تو بحیثیت انسان کے تمھیں بھی اس کی قدرت ہونی چاہیے۔ تم تنہا یا دوسرے انسانوں کو لے کر قرآن جیسا کلام بنا لاؤ۔ مگر اس وقت کے لوگوں میں سے کسی کے لیے ممکن نہ ہوسکا کہ وہ اس چیلنج کا جواب دے۔ بعد کے زمانہ میں بھی کوئی ادیب یا عالم قرآن جیسے کلام کا نمونہ پیش نہ کرسکا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ بہت سے لوگوں نے کوشش کی مگر وہ سراسر ناکام رہے۔ وہ قرآن جیسی ایک سورہ بھی نہ بنا سکے۔