Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 7:65 a 7:69
۞ والى عاد اخاهم هودا قال يا قوم اعبدوا الله ما لكم من الاه غيره افلا تتقون ٦٥ قال الملا الذين كفروا من قومه انا لنراك في سفاهة وانا لنظنك من الكاذبين ٦٦ قال يا قوم ليس بي سفاهة ولاكني رسول من رب العالمين ٦٧ ابلغكم رسالات ربي وانا لكم ناصح امين ٦٨ اوعجبتم ان جاءكم ذكر من ربكم على رجل منكم لينذركم واذكروا اذ جعلكم خلفاء من بعد قوم نوح وزادكم في الخلق بسطة فاذكروا الاء الله لعلكم تفلحون ٦٩
۞ وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًۭا ۗ قَالَ يَـٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُۥٓ ۚ أَفَلَا تَتَّقُونَ ٦٥ قَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦٓ إِنَّا لَنَرَىٰكَ فِى سَفَاهَةٍۢ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ ٱلْكَـٰذِبِينَ ٦٦ قَالَ يَـٰقَوْمِ لَيْسَ بِى سَفَاهَةٌۭ وَلَـٰكِنِّى رَسُولٌۭ مِّن رَّبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٦٧ أُبَلِّغُكُمْ رِسَـٰلَـٰتِ رَبِّى وَأَنَا۠ لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ ٦٨ أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَآءَكُمْ ذِكْرٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍۢ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ ۚ وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍۢ وَزَادَكُمْ فِى ٱلْخَلْقِ بَصْۜطَةًۭ ۖ فَٱذْكُرُوٓا۟ ءَالَآءَ ٱللَّهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ٦٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

حضرت نوح کی کشتی میں جو اہلِ ایمان بچے تھے ان میں آپ کے پوتے اِرَم کی اولاد سے ایک نسل چلی۔ وہ قدیم یمن میں آباد تھے اور عاد کہلاتے تھے۔ یہ لوگ ابتداء ً حضرت نوح کے دین پر تھے۔ بعد کو جب ان میں بگاڑ پیدا ہوا تو اللہ نے حضرت ہود کو ان کے اوپر اپنا پیغمبر مقرر کیا۔ مگر قوم کے سرداروں کو آپ کے اندر وہ عظمت نظر نہ آئی جو ان کے خیال مطابق خداکے پیغمبر کے اندر ہونا چاہیے تھی۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ شخص یا تو احمق ہے یا پھر وہ جھوٹا دعویٰ کررہاہے۔

’’میں تمھارا ناصح اور امین ہوں‘‘۔ پیغمبر کی زبان سے یہ فقرہ بتاتا ہے کہ داعی اور مدعو کا رشتہ قومی حریف یا سیاسی مد مقابل جیسا رشتہ نہیں ہے۔ یہ خیر خواہی اور امانت داری کا رشتہ ہے۔ داعی کو ایسا ہونا چاہیے کہ اس کے دل میں مدعو کے لیے خیر خواہی کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ مدعو کی طرف سے خواہ کیسا ہی ناخوش گوار رویہ سامنے آئے مگر داعی آخر وقت تک مدعو کا خیر خواہ بنا رہے۔ پھر جو پیغام وہ دے رہاہے اس کو دیتے ہوئے اس کے اندر یہ احساس نہ ہو کہ یہ میری کوئی اپنی چیز ہے جو میںدوسروں کو عطا کررہا ہوں۔ بلکہ یہ جذبہ ہو کہ یہ خود دوسروں کی چیز ہے۔ یہ دوسروں کے لیے خدا کی امانت ہے جو میں ان کو پہنچا کر بری الذمہ ہو رہاہوں۔

پیغمبروں کی دعوت کی بنیاد ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ انسان کے اوپر خدا کی نعمتیں یاد دلائیں اور اس کو اس بات سے ڈرائیں کہ اگر وہ خدا کا شکر گزار بن کر نہ رہا تو وہ خدا کی پکڑ میںآجائے گا۔ قومی جھگڑوں اور مادی مسائل کو پیغمبر کبھی اپنی دعوت کا عنوان نہیں بناتے۔ وہ آخری حد تک اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے اور مدعو کے درمیان اصل دعوت کے سوا کوئی چیز بحث کی بنیاد نہ بننے پائے، قوم ان کو صرف توحید اور آخرت کے داعی کے روپ میں دیکھے، نہ کہ کسی اور روپ میں۔

’’خدا کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو‘‘ —اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی نعمتوں کا استحقاق اُس کے لیے ہے جس نے دنیا میں خدا کی نعمتوں کا اعتراف کیا ہو۔ جنت خدا کے منعم ومحسن ہونے کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ اس ليے آخرت کی جنت کو وہی پائے گا جس نے دنیا میں خدا کے منعم ومحسن ہونے کو پالیا ہو۔ یہی معرفت جنت کی اصل قیمت ہے۔