Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 7:192 a 7:193
ولا يستطيعون لهم نصرا ولا انفسهم ينصرون ١٩٢ وان تدعوهم الى الهدى لا يتبعوكم سواء عليكم ادعوتموهم ام انتم صامتون ١٩٣
وَلَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًۭا وَلَآ أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ ١٩٢ وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى ٱلْهُدَىٰ لَا يَتَّبِعُوكُمْ ۚ سَوَآءٌ عَلَيْكُمْ أَدَعَوْتُمُوهُمْ أَمْ أَنتُمْ صَـٰمِتُونَ ١٩٣
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 192 وَلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ لَہُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَہُمْ یَنْصُرُوْنَ ۔ وہ تو سب کے سب خود اللہ کے بندے ہیں۔ اب یہاں بات تدریجاً بتوں کی طرف لائی جا رہی ہے۔ نظریاتی طور پر تو ان کے فلسفی بت پرستی کا جواز یہ بتاتے ہیں کہ وہ ان پتھر کے بتوں کی پوجا نہیں کرتے بلکہ ان مورتیوں کی حیثیت علامتی ہے۔ اصل دیوتا اور دیویاں چونکہ ہمارے سامنے موجود نہیں ہیں اس لیے ان کے بارے میں توجہ کے ارتکاز کے لیے ہم بتوں کو علامت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ اس فلسفہ کا خلاصہ ہے جو انڈیا کے ڈاکٹر رادھا کرشنن وغیرہ بیان کرتے رہے ہیں ‘ مگر ان کے عوام تو ان بتوں ہی کو معبود مانتے ہیں ‘ ان ہی کی پوجا کرتے ہیں ‘ بتوں ہی کے آگے جھکتے ہیں ‘ نذرانے دیتے ہیں اور انہی سے اپنی حاجات مانگتے ہیں۔