آیت 24{ حَتّٰیٓ اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ } ”یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں گے وہ چیز جس کی انہیں دھمکی دی جا رہی ہے“ { فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّاَقَلُّ عَدَدًا۔ } ”اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون کمزور ہے مددگاروں کے اعتبار سے اور کون اقلیت میں ہے تعداد کے لحاظ سے۔“ سردارانِ قریش کے طعنوں میں سے حضور ﷺ کے لیے ایک طعنہ یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ کی محفل کے مقابلے میں ہماری محفلیں زیادہ باوقار اور ُ پررونق ہوتی ہیں۔ آپ ﷺ تو نچلے طبقے کے چند غریب ‘ کمزور اور نادار افراد کو لے کر بیٹھے ہوتے ہیں جبکہ ہماری محفلوں میں بڑے بڑے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ اس آیت میں ان کے اس طعنے کا جواب دیا گیا ہے کہ قیامت کے دن انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اپنے حمایتیوں کی طاقت اور تعداد کے لحاظ سے کس کی کیا حیثیت ہے۔ سورة مریم میں یہ مضمون زیادہ واضح انداز میں آیا ہے۔