Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 4:127 a 4:130
ويستفتونك في النساء قل الله يفتيكم فيهن وما يتلى عليكم في الكتاب في يتامى النساء اللاتي لا توتونهن ما كتب لهن وترغبون ان تنكحوهن والمستضعفين من الولدان وان تقوموا لليتامى بالقسط وما تفعلوا من خير فان الله كان به عليما ١٢٧ وان امراة خافت من بعلها نشوزا او اعراضا فلا جناح عليهما ان يصلحا بينهما صلحا والصلح خير واحضرت الانفس الشح وان تحسنوا وتتقوا فان الله كان بما تعملون خبيرا ١٢٨ ولن تستطيعوا ان تعدلوا بين النساء ولو حرصتم فلا تميلوا كل الميل فتذروها كالمعلقة وان تصلحوا وتتقوا فان الله كان غفورا رحيما ١٢٩ وان يتفرقا يغن الله كلا من سعته وكان الله واسعا حكيما ١٣٠
وَيَسْتَفْتُونَكَ فِى ٱلنِّسَآءِ ۖ قُلِ ٱللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فِى ٱلْكِتَـٰبِ فِى يَتَـٰمَى ٱلنِّسَآءِ ٱلَّـٰتِى لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ وَٱلْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ ٱلْوِلْدَٰنِ وَأَن تَقُومُوا۟ لِلْيَتَـٰمَىٰ بِٱلْقِسْطِ ۚ وَمَا تَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْرٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِهِۦ عَلِيمًۭا ١٢٧ وَإِنِ ٱمْرَأَةٌ خَافَتْ مِنۢ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًۭا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًۭا ۚ وَٱلصُّلْحُ خَيْرٌۭ ۗ وَأُحْضِرَتِ ٱلْأَنفُسُ ٱلشُّحَّ ۚ وَإِن تُحْسِنُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًۭا ١٢٨ وَلَن تَسْتَطِيعُوٓا۟ أَن تَعْدِلُوا۟ بَيْنَ ٱلنِّسَآءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ ۖ فَلَا تَمِيلُوا۟ كُلَّ ٱلْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَٱلْمُعَلَّقَةِ ۚ وَإِن تُصْلِحُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا ١٢٩ وَإِن يَتَفَرَّقَا يُغْنِ ٱللَّهُ كُلًّۭا مِّن سَعَتِهِۦ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ وَٰسِعًا حَكِيمًۭا ١٣٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

پوچھنے والوں نے بعض معاشرتی امور کی بابت شرعی حکم دریافت کیا تھا۔ اس سلسلے میں حکم بتاتے ہوئے خیر وانصاف اور صلاح وتقویٰ پر زور دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی قانون اسی وقت اپنے مقصد کو پورا کرتا ہے جب کہ اس کو عمل میں لانے والا آدمی اللہ سے ڈرتا ہو اور فی الواقع انصاف کا طالب ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو قانون کی ظاہری تعمیل کے باوجود حقیقی بہتری پیدا نہیں ہوسکتی۔ معاشرہ کی واقعی اصلاح صرف اس وقت ہوتی ہے جب کہ برائی کرنے والا برائی سے اس ليے ڈرے کہ اصل معاملہ خدا سے ہے اور برائی کرنے کے بعد میں کسی طرح اس کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا۔ اسی طرح بھلائی کرنے والا یہ سوچے کہ لوگوں کی طرف سے خواہ مجھے اس کا کوئی صلہ نہ ملے مگر اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور وہ ضرور مجھ کو اس کا انعام دے گا۔ جہنم کا اندیشہ آدمی کو ظلم سے روکتا ہے اور جنت کی امید اس نقصان کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کردیتی ہے جو حق پرستانہ زندگی کے نتیجہ میں لازماً سامنے آتا ہے۔

میاں بیوی یادو آدمیوں میں اختلاف کی وجہ ہمیشہ حرص ہوتی ہے۔ ایک فریق دوسرے فریق کا لحاظ كيے بغیر صرف اپنے مطالبات کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ یہ ذہنیت ہر ایک کو دوسرے کی طرف سے غیر مطمئن بنا دیتی ہے۔ صحیح مزاج یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کی معذوری کو سمجھیں اور ایک دوسرے کی رعایت کرتے ہوئے کسی باہمی تصفیہ پر پہنچنے کی کوشش کریں۔ اللہ کا مطالبہ جس طرح یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کی رعایت کرے، اسی طرح اللہ بھی اپنے بندوں کے ساتھ آخری حد تک رعایت فرماتا ہے۔ اللہ کے یہاں آدمی کی پکڑ ا س کی فطری کمزوریوں پر نہیں ہے بلکہ اس کی اس سرکشی پر ہے جو وہ جان بوجھ کر کرتا ہے۔ اگر آدمی اللہ سے ڈرے اور دل میں اصلاح کا جذبہ رکھے تو وہ نیت کی درستگی کے ساتھ جو کچھ کرے گا اس کے لیے وہ اللہ کے یہاں قابل معافی قرار پائے گا۔ اسی کے ساتھ آدمی کو کبھی اس غلط فہمی میں نہ پڑنا چاہیے کہ وہ دوسرے کا کام بنانے والا ہے۔ ہر ایک کا کام بنانے والا صرف اللہ ہے، خواہ وہ بظاہر ایک طرح کے حالات میں ہو یا دوسری طرح کے حالات میں۔