Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 31:12 a 31:13
ولقد اتينا لقمان الحكمة ان اشكر لله ومن يشكر فانما يشكر لنفسه ومن كفر فان الله غني حميد ١٢ واذ قال لقمان لابنه وهو يعظه يا بني لا تشرك بالله ان الشرك لظلم عظيم ١٣
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا لُقْمَـٰنَ ٱلْحِكْمَةَ أَنِ ٱشْكُرْ لِلَّهِ ۚ وَمَن يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِۦ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِىٌّ حَمِيدٌۭ ١٢ وَإِذْ قَالَ لُقْمَـٰنُ لِٱبْنِهِۦ وَهُوَ يَعِظُهُۥ يَـٰبُنَىَّ لَا تُشْرِكْ بِٱللَّهِ ۖ إِنَّ ٱلشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌۭ ١٣
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

لقمان حکیم کی تاریخی حیثیت کے بارے میں ابھی تک قطعی معلومات حاصل نہیں ہوسکی ہیں۔ تاہم وہ ایک دانش مند اور خدا پرست آدمی تھے۔

قرآن بتاتا ہے کہ لقمان حکیم خدا کے ایک شکر گزار بندے تھے۔ اور اپنے بیٹے کو انھوں نے شرک سے بچنے کی تلقین کی۔ یہ دونوںباتیں ایک ہیں۔ توحید اللہ کو اپنا محسن سمجھنے کے احساس سے ابھرتی ہے۔ اور شرک یہ ہے کہ آدمی اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا محسن سمجھ لے اور اس کےلیے اپنے احسان مندی کے جذبات نچھاور کرنے لگے۔ جب دینے والا صرف ایک ہے تو شکر گزاری بھی صرف ایک ہی کی ہونی چاہيے۔