وقل الحق من ربكم فمن شاء فليومن ومن شاء فليكفر انا اعتدنا للظالمين نارا احاط بهم سرادقها وان يستغيثوا يغاثوا بماء كالمهل يشوي الوجوه بيس الشراب وساءت مرتفقا ٢٩
وَقُلِ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ ۖ فَمَن شَآءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَآءَ فَلْيَكْفُرْ ۚ إِنَّآ أَعْتَدْنَا لِلظَّـٰلِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا ۚ وَإِن يَسْتَغِيثُوا۟ يُغَاثُوا۟ بِمَآءٍۢ كَٱلْمُهْلِ يَشْوِى ٱلْوُجُوهَ ۚ بِئْسَ ٱلشَّرَابُ وَسَآءَتْ مُرْتَفَقًا ٢٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

جو حق خدا کی طرف سے آتا ہے وہ آخری حد تک صداقت ہوتا ہے۔ اس لیے لوگوں کی رعایت سے اس میں کسی قسم کی ترمیم نہیں کی جاسکتی۔ خدائی حق میں ترمیم کرنا گویا اس معیار کو تبدیل کرنا ہے۔جس پر جانچ کر ہر شخص کی حیثیت متعین کی جانے والی ہے۔

جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ خدائی حق میں ایسی ترمیم کی جائے کہ اس سے ان کی غلط روش کا جواز نکل آئے وہ گمراہی پر سرکشی کا اضافہ کررہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنے لیے صرف سخت ترین سزا کا انتظار کرنا چاہيے۔