Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 7:127 hingga 7:129
وقال الملا من قوم فرعون اتذر موسى وقومه ليفسدوا في الارض ويذرك والهتك قال سنقتل ابناءهم ونستحيي نساءهم وانا فوقهم قاهرون ١٢٧ قال موسى لقومه استعينوا بالله واصبروا ان الارض لله يورثها من يشاء من عباده والعاقبة للمتقين ١٢٨ قالوا اوذينا من قبل ان تاتينا ومن بعد ما جيتنا قال عسى ربكم ان يهلك عدوكم ويستخلفكم في الارض فينظر كيف تعملون ١٢٩
وَقَالَ ٱلْمَلَأُ مِن قَوْمِ فِرْعَوْنَ أَتَذَرُ مُوسَىٰ وَقَوْمَهُۥ لِيُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ وَيَذَرَكَ وَءَالِهَتَكَ ۚ قَالَ سَنُقَتِّلُ أَبْنَآءَهُمْ وَنَسْتَحْىِۦ نِسَآءَهُمْ وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قَـٰهِرُونَ ١٢٧ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ ٱسْتَعِينُوا۟ بِٱللَّهِ وَٱصْبِرُوٓا۟ ۖ إِنَّ ٱلْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۖ وَٱلْعَـٰقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ ١٢٨ قَالُوٓا۟ أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِنۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ١٢٩
وَقَالَ
الْمَلَاُ
مِنْ
قَوْمِ
فِرْعَوْنَ
اَتَذَرُ
مُوْسٰی
وَقَوْمَهٗ
لِیُفْسِدُوْا
فِی
الْاَرْضِ
وَیَذَرَكَ
وَاٰلِهَتَكَ ؕ
قَالَ
سَنُقَتِّلُ
اَبْنَآءَهُمْ
وَنَسْتَحْیٖ
نِسَآءَهُمْ ۚ
وَاِنَّا
فَوْقَهُمْ
قٰهِرُوْنَ
۟
قَالَ
مُوْسٰی
لِقَوْمِهِ
اسْتَعِیْنُوْا
بِاللّٰهِ
وَاصْبِرُوْا ۚ
اِنَّ
الْاَرْضَ
لِلّٰهِ ۙ۫
یُوْرِثُهَا
مَنْ
یَّشَآءُ
مِنْ
عِبَادِهٖ ؕ
وَالْعَاقِبَةُ
لِلْمُتَّقِیْنَ
۟
قَالُوْۤا
اُوْذِیْنَا
مِنْ
قَبْلِ
اَنْ
تَاْتِیَنَا
وَمِنْ
بَعْدِ
مَا
جِئْتَنَا ؕ
قَالَ
عَسٰی
رَبُّكُمْ
اَنْ
یُّهْلِكَ
عَدُوَّكُمْ
وَیَسْتَخْلِفَكُمْ
فِی
الْاَرْضِ
فَیَنْظُرَ
كَیْفَ
تَعْمَلُوْنَ
۟۠
3

بنی اسرائیل نے اپنے پیغمبر کے سامنے جو مسئلہ پیش کیا وہ حکومت کا پیدا کیا ہوا تھا۔ مگر پیغمبر نے اس کا جو حل بتایا وہ یہ تھا کہ اللہ کی طرف رجوع کرو۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ قومی مسائل کے بارے میں دنیا دار لیڈروں کے سوچنے کے انداز اور پیغمبر کے سوچنے کے انداز میں کیا فرق ہے۔ دنیا دار لیڈر اس قسم کے مسئلہ کا حل حکومت کی سطح پر تلاش کرتا ہے، خواہ وہ حکومت سے مصالحت کی صورت میں ہو یا حکومت سے تصادم کی صورت میں۔ مگر پیغمبر نے جو حل بتایا وہ یہ تھا کہ جو کچھ ہورہا ہو اس کو برداشت کرتے ہوئے خدا سے مدد کے طالب بنو، حکومت کی طرف سے بے نیاز ہو کر خداکی طرف رجوع کرو۔

پھر پیغمبر نے یہ بھی بتادیا کہ وہ عام قومی ذوق کے خلاف جو حل پیش کررہا ہے وہ کیوں پیش کررہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مسائل اگر چہ بظاہر اقتدار کی طرف سے پیش آرہے ہیں او ربظاہر اقتدار ہی کے ذریعہ ان کا حل بھی نکلے۔ مگر خود اقتدار کیسے کسی کو ملتاہے۔ وہ محض اپنی تدبیروں سے کسی کو نہیں مل جاتا بلکہ براہِ راست خدا کی طرف سے کسی کو ديے جانے کا فیصلہ ہوتا ہے اور کسی سے چھینے جانے کا۔ جب اقتدار کا تعلق خدا سے ہے تو مسئلہ کے حل کی جڑ بھی یقینا ًخدا ہی کے پاس ہوسکتی ہے۔

پھر یہ کہ یہ اقتدار جس کو بھی دیا جائے وہ حقیقۃً اس کے حق میں آزمائش ہوتاہے۔ اس دنیا میں بے طاقتی بھی آزمائش ہے اور طاقت ور ہونا بھی آزمائش۔ آج جس کے پاس اقتدار ہے، اس کے پاس بھی اس ليے ہے کہ اس کو آزمایا جائے کہ وہ ظالم اور متکبر بنتا ہے یا انصاف اور تواضع کی روش اختیار کرتا ہے۔ اس کے بعد جب اقتدار کا فیصلہ تمھارے حق میں کیا جائے گا اس وقت بھی اس کا مقصد تم کو جانچنا ہی ہوگا جس طرح ایک گروہ کی نااہلی کی بنا پر اس سے اقتدار چھین کر کسی دوسرے گروہ کو دیا جاتا ہے اسی طرح دوسرا گروہ اگر نااہل ثابت ہو تو اس سے بھی چھین کر دوبارہ کسی اور کو دے دیا جائے گا۔

خوش حالی اور اقتدار جس کو آدمی دنیا میں چاہتاہے وہ حقیقت میںآخرت میں ملنے والی چیز ہے۔ کیوں کہ دنیا میں یہ چیز بطور آزمائش ملتی ہے اور آخرت میں وہ بطور انعام خداکے صالح بندوں کو دی جائیں گی۔