اتواصوا به بل هم قوم طاغون ٥٣
أَتَوَاصَوْا۟ بِهِۦ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌۭ طَاغُونَ ٥٣
اَتَوَاصَوْا
بِهٖ ۚ
بَلْ
هُمْ
قَوْمٌ
طَاغُوْنَ
۟ۚ
3

آیت 53{ اَتَوَاصَوْا بِہٖ ج } ”کیا وہ ایک دوسرے کو وصیت کر گئے تھے اس کی ؟“ یعنی جو باتیں آج سے صدیوں پہلے کے لوگ اپنے پیغمبروں سے کہتے تھے ‘ عین وہی باتیں قریش مکہ آج ہمارے آخری رسول ﷺ سے کہہ رہے ہیں۔ کیا ان کی ہر نسل دوسری نسل کو یہ باتیں وصیت میں بتا کر جاتی رہی ہے ؟ { بَلْ ہُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ۔ } ”بلکہ یہ ہیں ہی سرکش لوگ !“ ان کے رویے کی یکسانی اور ایک ہی طرز جواب کی مسلسل تکرار کی وجہ یہ ہے کہ طغیان و سرکشی ان سب کا مشترک وصف ہے۔ چناچہ اپنے اپنے پیغمبروں کے خلاف ان کے اعتراضات بھی ایک جیسے ہیں۔