Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 35:5 hingga 35:7
يا ايها الناس ان وعد الله حق فلا تغرنكم الحياة الدنيا ولا يغرنكم بالله الغرور ٥ ان الشيطان لكم عدو فاتخذوه عدوا انما يدعو حزبه ليكونوا من اصحاب السعير ٦ الذين كفروا لهم عذاب شديد والذين امنوا وعملوا الصالحات لهم مغفرة واجر كبير ٧
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّۭ ۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا ۖ وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِٱللَّهِ ٱلْغَرُورُ ٥ إِنَّ ٱلشَّيْطَـٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّۭ فَٱتَّخِذُوهُ عَدُوًّا ۚ إِنَّمَا يَدْعُوا۟ حِزْبَهُۥ لِيَكُونُوا۟ مِنْ أَصْحَـٰبِ ٱلسَّعِيرِ ٦ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَهُمْ عَذَابٌۭ شَدِيدٌۭ ۖ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ لَهُم مَّغْفِرَةٌۭ وَأَجْرٌۭ كَبِيرٌ ٧
یٰۤاَیُّهَا
النَّاسُ
اِنَّ
وَعْدَ
اللّٰهِ
حَقٌّ
فَلَا
تَغُرَّنَّكُمُ
الْحَیٰوةُ
الدُّنْیَا ۥ
وَلَا
یَغُرَّنَّكُمْ
بِاللّٰهِ
الْغَرُوْرُ
۟
اِنَّ
الشَّیْطٰنَ
لَكُمْ
عَدُوٌّ
فَاتَّخِذُوْهُ
عَدُوًّا ؕ
اِنَّمَا
یَدْعُوْا
حِزْبَهٗ
لِیَكُوْنُوْا
مِنْ
اَصْحٰبِ
السَّعِیْرِ
۟ؕ
اَلَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
لَهُمْ
عَذَابٌ
شَدِیْدٌ ؕ۬
وَالَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
وَعَمِلُوا
الصّٰلِحٰتِ
لَهُمْ
مَّغْفِرَةٌ
وَّاَجْرٌ
كَبِیْرٌ
۟۠
3

خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ زندگی کی نوعیت کے بارے میں جو خبر دی ہے وہ بظاہر ایک خیالی بات معلوم ہوتی ہے۔ کیوں کہ آدمی فوراً ان سے دوچار نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس، دنیا کی چیزیں حقیقی نظر آتی ہیں۔ کیوں کہ آدمی آج ہی ان سے دوچار ہورہا ہے۔ موت او ر زلزلہ اور حادثات آدمی کو چوکنّا کرتے ہیں۔ یہ گویا قیامت سے پہلے قیامت کی اطلاع ہیں۔ مگر شیطان فوراً ہی لوگوں کے ذہن کو یہ کہہ کر پھیر دیتاہے کہ یہ سب اسباب کے تحت پیش آنے والے واقعات ہیں، نہ کہ خدائی مداخلت کی تحت۔ مگراس قسم کا ہر خیال شیطان کا فریب ہے۔ وہ دن آنا لازمی ہے جب کہ جھوٹ اور سچ میں تفریق ہو۔ جب کہ اچھے لوگوں کو ان کی اچھائی کا انعام ملے اور برے لوگوں کو ان کی برائی کی سزا دی جائے۔