Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 2:259 hingga 2:260
او كالذي مر على قرية وهي خاوية على عروشها قال انى يحيي هاذه الله بعد موتها فاماته الله ماية عام ثم بعثه قال كم لبثت قال لبثت يوما او بعض يوم قال بل لبثت ماية عام فانظر الى طعامك وشرابك لم يتسنه وانظر الى حمارك ولنجعلك اية للناس وانظر الى العظام كيف ننشزها ثم نكسوها لحما فلما تبين له قال اعلم ان الله على كل شيء قدير ٢٥٩ واذ قال ابراهيم رب ارني كيف تحيي الموتى قال اولم تومن قال بلى ولاكن ليطمين قلبي قال فخذ اربعة من الطير فصرهن اليك ثم اجعل على كل جبل منهن جزءا ثم ادعهن ياتينك سعيا واعلم ان الله عزيز حكيم ٢٦٠
أَوْ كَٱلَّذِى مَرَّ عَلَىٰ قَرْيَةٍۢ وَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىٰ يُحْىِۦ هَـٰذِهِ ٱللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ۖ فَأَمَاتَهُ ٱللَّهُ مِا۟ئَةَ عَامٍۢ ثُمَّ بَعَثَهُۥ ۖ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ ۖ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍۢ ۖ قَالَ بَل لَّبِثْتَ مِا۟ئَةَ عَامٍۢ فَٱنظُرْ إِلَىٰ طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ ۖ وَٱنظُرْ إِلَىٰ حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ ءَايَةًۭ لِّلنَّاسِ ۖ وَٱنظُرْ إِلَى ٱلْعِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًۭا ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُۥ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ ٢٥٩ وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِـۧمُ رَبِّ أَرِنِى كَيْفَ تُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ ۖ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن ۖ قَالَ بَلَىٰ وَلَـٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِى ۖ قَالَ فَخُذْ أَرْبَعَةًۭ مِّنَ ٱلطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ ٱجْعَلْ عَلَىٰ كُلِّ جَبَلٍۢ مِّنْهُنَّ جُزْءًۭا ثُمَّ ٱدْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًۭا ۚ وَٱعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ ٢٦٠
اَوْ
كَالَّذِیْ
مَرَّ
عَلٰی
قَرْیَةٍ
وَّهِیَ
خَاوِیَةٌ
عَلٰی
عُرُوْشِهَا ۚ
قَالَ
اَنّٰی
یُحْیٖ
هٰذِهِ
اللّٰهُ
بَعْدَ
مَوْتِهَا ۚ
فَاَمَاتَهُ
اللّٰهُ
مِائَةَ
عَامٍ
ثُمَّ
بَعَثَهٗ ؕ
قَالَ
كَمْ
لَبِثْتَ ؕ
قَالَ
لَبِثْتُ
یَوْمًا
اَوْ
بَعْضَ
یَوْمٍ ؕ
قَالَ
بَلْ
لَّبِثْتَ
مِائَةَ
عَامٍ
فَانْظُرْ
اِلٰی
طَعَامِكَ
وَشَرَابِكَ
لَمْ
یَتَسَنَّهْ ۚ
وَانْظُرْ
اِلٰی
حِمَارِكَ۫
وَلِنَجْعَلَكَ
اٰیَةً
لِّلنَّاسِ
وَانْظُرْ
اِلَی
الْعِظَامِ
كَیْفَ
نُنْشِزُهَا
ثُمَّ
نَكْسُوْهَا
لَحْمًا ؕ
فَلَمَّا
تَبَیَّنَ
لَهٗ ۙ
قَالَ
اَعْلَمُ
اَنَّ
اللّٰهَ
عَلٰی
كُلِّ
شَیْءٍ
قَدِیْرٌ
۟
وَاِذْ
قَالَ
اِبْرٰهٖمُ
رَبِّ
اَرِنِیْ
كَیْفَ
تُحْیِ
الْمَوْتٰی ؕ
قَالَ
اَوَلَمْ
تُؤْمِنْ ؕ
قَالَ
بَلٰی
وَلٰكِنْ
لِّیَطْمَىِٕنَّ
قَلْبِیْ ؕ
قَالَ
فَخُذْ
اَرْبَعَةً
مِّنَ
الطَّیْرِ
فَصُرْهُنَّ
اِلَیْكَ
ثُمَّ
اجْعَلْ
عَلٰی
كُلِّ
جَبَلٍ
مِّنْهُنَّ
جُزْءًا
ثُمَّ
ادْعُهُنَّ
یَاْتِیْنَكَ
سَعْیًا ؕ
وَاعْلَمْ
اَنَّ
اللّٰهَ
عَزِیْزٌ
حَكِیْمٌ
۟۠
3

یہاں موت کے بعد دوبارہ زندہ کيے جانے کے جن دو تجربات کا ذکر ہے ان کا تعلق انبیاء سے ہے۔ پہلا تجربہ غالباً حضرت عزیر کے ساتھ گزرا جن کا زمانہ پانچویں صدی قبل مسیح کا ہے۔ اور دوسرا تجربہ حضرت ابراہیم سے تعلق رکھتا ہے۔ جن کا زمانہ 1985-2160 ق م کے درمیان ہے۔ انبیاء خدا کی طرف سے اس ليے مقرر ہوتے ہیںکہ لوگوں کو غیبی حقائق سے باخبر کریں۔ اس ليے ان کو وہ غیبی چیزیں بے پردہ کرکے دکھا دی جاتی ہیں جن پر دوسروں کے لیے اسباب کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ انبیاء کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ اس ليے ہوتاہے تاکہ وہ ان چیزوں کو ذاتی مشاہد بن کر ان کی بابت لوگوں کو با خبر کرسکیں۔ وہ لوگوں کو جن غیبی حقیقتوں کی خبر دیں ان کے متعلق کہہ سکیں کہ ہم ایک دیکھی ہوئی چیز سے تم کو خبردار کررہے ہیں، نہ کہ محض سنی ہوئی چیز سے۔

انبیا ء کو چالیس سال کی عمر میں نبوت دی جاتی ہے۔ نبوت سے پہلے ان کی پوری زندگی لوگوں کے سامنے اس طرح گزرتی ہے کہ ان سے کسی شخص کو جھوٹ کا تجربہ نہیں ہوتا۔ تقریباً نصف صدی تک ماحول کے اندر اپنے سچے ہونے کا ثبوت دینے کے بعد وہ وقت آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو لوگوں کے سامنے ان غیبی حقیقتوں کے اعلان کے لیے کھڑا کرے جن کو آزمائش کی مصلحت کی بنا پر لوگوں سے چھپا دیاگیا ہے۔ ماحول کے یہ سب سے زیادہ سچے لوگ ایک طرف اپنے مشاہدہ سے لوگوں کو باخبر کرتے ہیں اور دوسری طرف عقل اور فطرت کے شواہد سے اس کو مدلل کرتے ہیں۔مزید یہ کہ انبیاء کو ہمیشہ شدید ترین حالات سے سابقہ پیش آتا ہے، اس کے باوجود وہ اپنے قول سے پھرتے نہیںوہ انتہائی ثابت قدمی کے ساتھ اپنی بات پر جمے رہتے ہیں۔ اس طرح یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں اس میں وہ پوری طرح سنجیدہ ہیں۔ فرضی طورپر انھوںنے کوئی بات نہیں گھڑ لی ہے۔ کیوں کہ گھڑی ہوئی بات کو پیش کرنے والا کبھی اتنے سخت حالات میں اپنی بات پر قائم نہیں رہ سکتا۔ اورنہ اس کی بات خارجی کائنات سے اتنا زیادہ مطابق ہوسکتی ہے کہ وہ سراپا اس کی تصدیق بن جائے۔