Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 18:63 hingga 18:65
قال ارايت اذ اوينا الى الصخرة فاني نسيت الحوت وما انسانيه الا الشيطان ان اذكره واتخذ سبيله في البحر عجبا ٦٣ قال ذالك ما كنا نبغ فارتدا على اثارهما قصصا ٦٤ فوجدا عبدا من عبادنا اتيناه رحمة من عندنا وعلمناه من لدنا علما ٦٥
قَالَ أَرَءَيْتَ إِذْ أَوَيْنَآ إِلَى ٱلصَّخْرَةِ فَإِنِّى نَسِيتُ ٱلْحُوتَ وَمَآ أَنسَىٰنِيهُ إِلَّا ٱلشَّيْطَـٰنُ أَنْ أَذْكُرَهُۥ ۚ وَٱتَّخَذَ سَبِيلَهُۥ فِى ٱلْبَحْرِ عَجَبًۭا ٦٣ قَالَ ذَٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ ۚ فَٱرْتَدَّا عَلَىٰٓ ءَاثَارِهِمَا قَصَصًۭا ٦٤ فَوَجَدَا عَبْدًۭا مِّنْ عِبَادِنَآ ءَاتَيْنَـٰهُ رَحْمَةًۭ مِّنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَـٰهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًۭا ٦٥
قَالَ
اَرَءَیْتَ
اِذْ
اَوَیْنَاۤ
اِلَی
الصَّخْرَةِ
فَاِنِّیْ
نَسِیْتُ
الْحُوْتَ ؗ
وَمَاۤ
اَنْسٰىنِیْهُ
اِلَّا
الشَّیْطٰنُ
اَنْ
اَذْكُرَهٗ ۚ
وَاتَّخَذَ
سَبِیْلَهٗ
فِی
الْبَحْرِ ۖۗ
عَجَبًا
۟
قَالَ
ذٰلِكَ
مَا
كُنَّا
نَبْغِ ۖۗ
فَارْتَدَّا
عَلٰۤی
اٰثَارِهِمَا
قَصَصًا
۟ۙ
فَوَجَدَا
عَبْدًا
مِّنْ
عِبَادِنَاۤ
اٰتَیْنٰهُ
رَحْمَةً
مِّنْ
عِنْدِنَا
وَعَلَّمْنٰهُ
مِنْ
لَّدُنَّا
عِلْمًا
۟
3

حضرت موسیٰکو مزید علامت یہ بتائی گئی تھی کہ تم جب مطلوبہ مقام پر پہنچوگے تو تمھارے ناشتہ کی مچھلی عجیب طریقہ سے پانی میں چلی جائے گی۔ یہ واقعہ ایک مقام پر ہوا۔ مگر مچھلی شاگرد کے ساتھ تھی اور شاگرد کسی وجہ سے حضرت موسیٰ کو بتا نہ سکا کہ ایسا واقعہ ہواہے۔ کچھ آگے بڑھنے کے بعد جب موسیٰکو معلوم ہوا تو وہ فوراً واپس ہوئے اور مذکورہ مقام پر اس بندہ (خضر) کو پالیا جس سے ملنے کے لیے انھوں نے یہ لمبا سفر کیا تھا۔