رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت میں دلائل کا زور اتنا زیادہ تھا کہ عرب کے عام لوگ اس سے مرعوب ہونے لگے۔ یہ دیکھ کر وہاں کے سرداروں کو خطرہ محسوس ہوا کہ اگر ان لوگوں نے بڑی تعداد میں نئے دین کو قبول کرلیا تو ہماری سرداری ختم ہوجائے گی۔ انھوںنے لوگوں کو اس سے پھیرنے کے لیے ایک تدبیر کی۔ انھوںنے کہا کہ اس شخص کے کلام میں تم جو زور دیکھ رہے ہو وہ دراصل ساحرانہ کلام کا زور ہے۔ یہ ’’ادب‘‘ کا معاملہ ہے، نہ کہ حقیقۃً صداقت کا معاملہ۔ اس طرح انھوںنے یہ کیا کہ جس کلام کی عظمت میں لوگ صداقت کی جھلک دیکھ رہے تھے اس کو لوگوں کی نظر میں ’’قلم کے جادو‘‘ کے ہم معنی بنادیا۔
جو لوگ کسی دعوت کو اس کے جوہر کی بنیاد پر نہ دیکھیں بلکہ اس اعتبار سے دیکھیں کہ وہ ان کی حیثیت کی تصدیق کرتی ہے یا تردید، ایسے لوگ کبھی صداقت کو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔