جو لوگ سچائی کو گہرائی کے ساتھ پائے ہوئے نہیں ہوتے۔ وہ ہمیشہ ظاہری چیزوں میں الجھے رہتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ خدا کو اِس لفظ سے پکارنا افضل ہے اور کوئی کہتا ہے کہ اُس لفظ سے۔ کوئی کہتا ہے کہ فلاں عبادتی فعل زور سے ادا کرنا چاہیے اور کوئی کہتا ہے کہ دھیرے دھیرے سے۔
عرب میں بھی اس قسم کی بحثیں مختلف اندازسے جاری تھیں ۔ فرمایا کہ خدا کو جس بہتر نام سے پکارو و ہ اسی کا نام ہے۔ اسی طرح عبادت کے بارے میں فرمایا کہ خدا کی عبادت کی ادائگی کا انحصار نہ زور سے بولنے پر ہے اور نہ دھیرے بولنے پر۔ تم عبادت کی اصل روح اپنے اندر پیدا کرو اور ا س کی ادائيگی میں اعتدال سے کام لو۔
عبادت کی روح یہ ہے کہ اللہ کی بڑائی کا کامل احساس آدمی کے اندر پیدا ہو جائے۔ اللہ پر ایمان اس کے لیے ایسی کامل اور عظیم ہستی کی دریافت کے ہم معنی بن جائے جس کو کسی سے مدد لینے کی ضرورت نہ ہو، جس کا کوئی شریک اور برابر نہ ہو۔ جس پر کبھی کوئی ایسا حادثہ نہ گزرتا ہو جب کہ وہ کسی کی مدد کا محتاج ہو۔ یہ یافت جب لفظوں کی صورت میں ڈھل کر زبان سے نکلنے لگے تو اسی کا نام تکبیر ہے۔