هاذا بلاغ للناس ولينذروا به وليعلموا انما هو الاه واحد وليذكر اولو الالباب ٥٢
هَـٰذَا بَلَـٰغٌۭ لِّلنَّاسِ وَلِيُنذَرُوا۟ بِهِۦ وَلِيَعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا هُوَ إِلَـٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ وَلِيَذَّكَّرَ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَـٰبِ ٥٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 52 هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ اس قرآن اور اس کے احکام کو لوگوں تک پہنچانے کی ذمہ داری ہم نے محمد رسول اللہ پر ڈالی تھی۔ آپ نے یہ ذمہ داری احسن طریقے سے پوری کردی ہے۔ اب یہ ذمہ داری آپ کی امت کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے کہ وہ یہ پیغام تمام انسانوں تک پہنچائے۔وَلِيُنْذَرُوْا بِهٖ یعنی اس قرآن کے ذریعے سے تمام انسانوں کی تذکیر و تنذیر کا حق ادا ہوجائے۔ اس حوالے سے سورة الانعام کی آیت 19 کے یہ الفاظ بھی یاد کر لیجیے : وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْم بَلَغَ ط ”یہ قرآن میری طرف سے وحی کیا گیا ہے تاکہ میں خبردار کردوں اس کے ذریعے سے تمہیں بھی اور ہر اس شخص کو جس تک بھی یہ پہنچ جائے۔“بارک اللّٰہ لی ولکم فی ال قرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالایات والذکر الحکیم