یہود سے اللہ نے حضرت موسیٰ کے ذریعہ ایمان واطاعت کا عہد لیا تھا۔وہ کچھ دن اس پر قائم رہے۔ اس کے بعد ان میں بگاڑ شروع ہوگیا۔ اب اللہ نے ان کے درمیان اپنے مصلحین اٹھائے جو ان کو اپنے عہد کی یاد دہانی کریں۔ مگر یہود کی بے راہی اور سرکشی بڑھتی ہی چلی گئی۔ انھوں نے خود نصیحت کرنے والوں کی زبان بند کرنے کی کوشش کی۔ حتی کہ کتنے لوگوں کو قتل کردیا۔ جب ان کی سرکشی حد کو پہنچ گئی تو اللہ نے بابل ونینویٰ (عراق) کے بادشاہ بنو خذ نصر کو ان کے اوپر مسلط کردیا جس نے
اب یہود کو نئی زندگی ملی اور ان کو کافی فروغ حاصل ہوا۔ مگر کچھ دنوں کے بعد وہ دوبارہ غفلت اور سرکشی میںمبتلا ہوئے۔ اب پھر نبیوں اور مصلحین کے ذریعہ اللہ نے ان کو متنبہ کیا۔ مگر وہ ہوش میں نہ آئے، یہاں تک کہ انھوںنے حضرت یحییٰ کو قتل کردیا اور (اپنی حد تک) حضرت مسیح کو بھی۔ اب اللہ کا غضب ان پر بھڑکا اور 70 عیسوی میں رومی شہنشاہ ٹائٹس کو ان پر مسلط کردیاگیا۔ جس نے ان کے ملک پر حملہ کرکے ان کو ویران کردیا۔ اس کے بعد یہود کبھی اپنی ذاتی بنیادوں پر کھڑے نہ ہوسکے۔
آسمانی کتاب کی حامل قوموں کی نفسیات بعدکے زمانہ میں یہ بن جاتی ہے کہ وہ خدا کے خاص لوگ ہیں۔ وہ جو کچھ بھی کریں اس پر ان کی پکڑ نہیں ہوگی۔ خدا کی تعلیمات میں اس عقیدہ کے خلاف کھلے کھلے بیانات ہوتے ہیں۔ مگر وہ ان کے بارے میں اندھے بہرے بن جاتے ہیں۔ وہ اپنے گرد خود ساختہ عقیدوں اور فرضي قصے کہانیوں کا ایسا ہالہ بنا لیتے ہیں کہ خدا کی تنبیہات ان کو دکھائی اور سنائی نہیں دیتیں۔ یہود کی یہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی ایک حاملِ کتاب قوم کو اس کے ’’دشمنوں کے قبضہ‘‘ میں دے دیا جائے تو یہ اس کے لیے خدا کی طرف سے آزمائش کا وقت ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہلکی سزا دے کر قوم کو جگایا جائے۔ اگر اس کے نتیجہ میں قوم کے افراد میںخدا پرست جذبات جاگ اٹھیں تو اس کے اوپر سزا اٹھالی جاتی ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو خدا اس کو رد کرکے پھینک دیتا ہے اور پھر کبھی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔