۞ اليه يرد علم الساعة وما تخرج من ثمرات من اكمامها وما تحمل من انثى ولا تضع الا بعلمه ويوم يناديهم اين شركايي قالوا اذناك ما منا من شهيد ٤٧
۞ إِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ ٱلسَّاعَةِ ۚ وَمَا تَخْرُجُ مِن ثَمَرَٰتٍۢ مِّنْ أَكْمَامِهَا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِۦ ۚ وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ أَيْنَ شُرَكَآءِى قَالُوٓا۟ ءَاذَنَّـٰكَ مَا مِنَّا مِن شَهِيدٍۢ ٤٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
۳

آیت 47{ اِلَیْہِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَۃِ } ”اسی کی طرف لوٹتا ہے قیامت کا علم۔“ یعنی قیامت کا علم صرف اسی کے پاس ہے۔ { وَمَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَکْمَامِہَا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰی وَلَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِہٖ } ”اور نہیں نکلتے کوئی پھل اپنے غلافوں سے اور نہ کسی مادہ کو حمل ہوتا ہے اور نہ ہی وہ اس کو جنتی ہے ‘ مگر اسی کے علم سے۔“ یعنی صرف قیامت ہی نہیں بلکہ تمام امور غیب کا علم اللہ ہی کے لیے مخصوص ہے۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ جزئیات کا بھی اتنا تفصیلی علم رکھتا ہے کہ اس کی نگاہ سے کسی شخص کا کوئی چھوٹا سا عمل بھی مخفی نہیں رہ سکتا۔ واضح رہے کہ یہاں پر اُنْثٰی کا لفظ اپنے مفہوم کے اعتبار سے انسانوں کے علاوہ تمام حیوانات کی مادائوں کا احاطہ بھی کرتا ہے۔ { وَیَوْمَ یُنَادِیْہِمْ اَیْنَ شُرَکَآئِ } ”اور جس دن وہ ان کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک ؟“ { قَالُوْٓا اٰذَنّٰکَ مَا مِنَّا مِنْ شَہِیْدٍ } ”وہ کہیں گے : ہم نے تو آپ سے عرض کردیا ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اس کی گواہی دینے والا نہیں۔“ اس وقت وہ بےبسی کے عالم میں یہ بھی نہیں کہہ سکیں گے کہ دنیا میں ہم نے واقعتا کچھ سہارے ڈھونڈ کر ان سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔