شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 34:43 تا 34:45
واذا تتلى عليهم اياتنا بينات قالوا ما هاذا الا رجل يريد ان يصدكم عما كان يعبد اباوكم وقالوا ما هاذا الا افك مفترى وقال الذين كفروا للحق لما جاءهم ان هاذا الا سحر مبين ٤٣ وما اتيناهم من كتب يدرسونها وما ارسلنا اليهم قبلك من نذير ٤٤ وكذب الذين من قبلهم وما بلغوا معشار ما اتيناهم فكذبوا رسلي فكيف كان نكير ٤٥
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتُنَا بَيِّنَـٰتٍۢ قَالُوا۟ مَا هَـٰذَآ إِلَّا رَجُلٌۭ يُرِيدُ أَن يَصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ ءَابَآؤُكُمْ وَقَالُوا۟ مَا هَـٰذَآ إِلَّآ إِفْكٌۭ مُّفْتَرًۭى ۚ وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا سِحْرٌۭ مُّبِينٌۭ ٤٣ وَمَآ ءَاتَيْنَـٰهُم مِّن كُتُبٍۢ يَدْرُسُونَهَا ۖ وَمَآ أَرْسَلْنَآ إِلَيْهِمْ قَبْلَكَ مِن نَّذِيرٍۢ ٤٤ وَكَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَمَا بَلَغُوا۟ مِعْشَارَ مَآ ءَاتَيْنَـٰهُمْ فَكَذَّبُوا۟ رُسُلِى ۖ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ ٤٥
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
۳

قرآن اپنے مخاطبین کے سامنے کھلے کھلے دلائل دے رہا تھا۔ مخاطبین دلیل سے اس کا توڑ نہیں کرسکتے تھے۔ اس کے باوجود وہ عوام کو اس سے روکنے میںکامیاب ہوگئے۔ ان کی اس کامیابی کا واحد راز یہ تھا کہ انھوں نے لوگوں کو یہ کہہ کر اس کی طرف سے مشتبہ کردیاکہ یہ ہمارے اسلاف کے طریقہ کے خلاف ہے۔ قرآن میں جو معجزانہ ادب تھا اس کا انکار ناممکن تھا۔ اس کے بارے میں لوگوں کو یہ کہہ کر مطمئن کردیاگیا کہ یہ محض جادو بیانی کا کرشمہ ہے، وحی الٰہی ہونے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ محض قلم کا زور ہے، نہ کہ علم حقیقت کا زور— تاریخ کا یہ تجربہ نہایت عجیب ہے کہ ہر دور کے لوگوں کےلیے دلیل کے مقابلہ میں تعصب زیادہ طاقت ور ثابت ہوا ہے۔

قرآن کے مخاطبین کے پاس قرآن کا انکار کرنے کےلیے یا تو عقلی دلائل ہوتے جن کے ذریعہ وہ اس کو رد کرسکتے یا ان کے پاس کوئی دوسری آسمانی کتاب ہوتی جس سے قرآن کی تردید نکالی جاسکتی۔ مخاطبین قرآن کے پاس ان دونوں میں سے کوئی چیز موجود نہ تھی۔ مزید یہ کہ دنیوی ترقی میں بھی وہ دوسری قوموں سے بہت زیادہ پیچھے تھے۔ جن لوگوں کا یہ حال ہو وہ اگر دعوتِ حق کا انکار کرتے ہیں تو اس کی وجہ ہٹ دھرمی ہے،نہ کہ معقولیت۔