ايود احدكم ان تكون له جنة من نخيل واعناب تجري من تحتها الانهار له فيها من كل الثمرات واصابه الكبر وله ذرية ضعفاء فاصابها اعصار فيه نار فاحترقت كذالك يبين الله لكم الايات لعلكم تتفكرون ٢٦٦
أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَن تَكُونَ لَهُۥ جَنَّةٌۭ مِّن نَّخِيلٍۢ وَأَعْنَابٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ لَهُۥ فِيهَا مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ وَأَصَابَهُ ٱلْكِبَرُ وَلَهُۥ ذُرِّيَّةٌۭ ضُعَفَآءُ فَأَصَابَهَآ إِعْصَارٌۭ فِيهِ نَارٌۭ فَٱحْتَرَقَتْ ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلْـَٔايَـٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ ٢٦٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
۳

آیت 266 اَیَوَدُّ اَحَدُکُمْ اَنْ تَکُوْنَ لَہٗ جَنَّۃٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ لا اہل عرب کے نزدیک یہ ایک آئیڈیل باغ کا نقشہ ہے ‘ جس میں کھجور کے درخت بھی ہوں اور انگور کی بیلیں بھی ہوں ‘ پھر اس میں آب پاشی کا قدرتی انتظام ہو۔لَہٗ فِیْہَا مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ لا وَاَصَابَہُ الْکِبَرُ وَلَہٗ ذُرِّیَّۃٌ ضُعَفَآءُص فَاَصَابَہَآ اِعْصَارٌ فِیْہِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ ط یعنی ایک انسان ساری عمر یہ سمجھتا رہا کہ میں نے تو نیکیوں کے انبار لگائے ہیں ‘ میں نے خیراتی ادارے قائم کیے ‘ میں نے فاؤنڈیشن بنائی ‘ میں نے مدرسہ قائم کیا ‘ میں نے یتیم خانہ بنادیا ‘ لیکن جب اس کا نامہ اعمال پیش ہوگا تو اچانک اسے معلوم ہوگا کہ یہ تو کچھ بھی نہ تھا۔ ع جب آنکھ کھلی گل کی تو موسم تھا خزاں کا ! بس باد سموم کا ایک بگولا آیا اور سب کچھ جلا گیا۔ اس لیے کہ اس میں اخلاص تھا ہی نہیں ‘ نیت میں کھوٹ تھا ‘ اس میں ریاکاری تھی ‘ لوگوں کو دکھانا مقصود تھا۔ پھر اس کا حال وہی ہوگا جس طرح کہ وہ بوڑھا اب کف افسوس مل رہا ہے جس کا باغ جل کر خاک ہوگیا اور اس کے کمسن بچے ابھی کسی لائق نہیں۔ وہ خود بوڑھا ہوچکا ہے اور اب دوبارہ باغ نہیں لگا سکتا۔ اس شخص کی مہلت عمر بھی ختم ہوچکی ہوگی اور سوائے کف افسوس ملنے کے اس کے پاس کوئی چارہ نہ ہوگا۔