شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 22:52 تا 22:54
وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبي الا اذا تمنى القى الشيطان في امنيته فينسخ الله ما يلقي الشيطان ثم يحكم الله اياته والله عليم حكيم ٥٢ ليجعل ما يلقي الشيطان فتنة للذين في قلوبهم مرض والقاسية قلوبهم وان الظالمين لفي شقاق بعيد ٥٣ وليعلم الذين اوتوا العلم انه الحق من ربك فيومنوا به فتخبت له قلوبهم وان الله لهاد الذين امنوا الى صراط مستقيم ٥٤
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍۢ وَلَا نَبِىٍّ إِلَّآ إِذَا تَمَنَّىٰٓ أَلْقَى ٱلشَّيْطَـٰنُ فِىٓ أُمْنِيَّتِهِۦ فَيَنسَخُ ٱللَّهُ مَا يُلْقِى ٱلشَّيْطَـٰنُ ثُمَّ يُحْكِمُ ٱللَّهُ ءَايَـٰتِهِۦ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ ٥٢ لِّيَجْعَلَ مَا يُلْقِى ٱلشَّيْطَـٰنُ فِتْنَةًۭ لِّلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌۭ وَٱلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ ۗ وَإِنَّ ٱلظَّـٰلِمِينَ لَفِى شِقَاقٍۭ بَعِيدٍۢ ٥٣ وَلِيَعْلَمَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ أَنَّهُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَيُؤْمِنُوا۟ بِهِۦ فَتُخْبِتَ لَهُۥ قُلُوبُهُمْ ۗ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَهَادِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ ٥٤
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
۳

حق کا داعی خواہ وہ پیغمبر ہو یا غیر پیغمبر، اس کے ساتھ ہمیشہ یہ پیش آتا ہے کہ جب وہ خدا کی سچی بات کا اعلان کرتا ہے تو معاندین اس کی بات میں طرح طرح کے شوشے نکالتے ہیں تاکہ لوگوں کو اس کی صداقت کی بارے میں مشتبہ کردیں۔

اس طرح کے شوشے ہمیشہ بے بنیاد ہوتے ہیں۔ جب وہ پیش کيے جاتے ہیں تو داعی کو موقع ملتا ہے کہ وہ ان کی وضاحت کرکے اپنی بات کو اور زیادہ ثابت شدہ بنادے۔ اس سے مخلص لوگوں کے یقین میں اضافہ ہوتاہے۔ اس کے بعد خدا کے ساتھ ان کا تعلق اور زیادہ مضبوط ہوجاتا ہے۔ مگر جو لوگ مخلصانہ شعور سے خالی ہوتے ہیں، یہ شوشے ان کے ليے فتنہ بن جاتے ہیں۔ وہ ان کے فریب میں مبتلا ہو کر حق سے دور چلے جاتے ہیں۔

’’اللہ ایمان والوں کوضرور صراط مستقیم دکھاتاہے‘‘— اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ جو لوگ فی الواقع ایمان کے معاملے میں سنجیدہ ہوں وہ کبھی جھوٹے پروپیگنڈوں سے متاثر نہیں ہوتے۔ وہ الفاظ کے طلسم سے کبھی دھوکا نہیںکھاتے۔ ان کا ایمان ان کے ليے ایسا علم بن جاتا ہے جو باتوں کو ان کی گہرائی کے ساتھ جان لے، نہ کہ محض باتوں کے ظواہر میں اٹک کر رہ جائے۔