شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 17:31 تا 17:32
ولا تقتلوا اولادكم خشية املاق نحن نرزقهم واياكم ان قتلهم كان خطيا كبيرا ٣١ ولا تقربوا الزنا انه كان فاحشة وساء سبيلا ٣٢
وَلَا تَقْتُلُوٓا۟ أَوْلَـٰدَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَـٰقٍۢ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ ۚ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْـًۭٔا كَبِيرًۭا ٣١ وَلَا تَقْرَبُوا۟ ٱلزِّنَىٰٓ ۖ إِنَّهُۥ كَانَ فَـٰحِشَةًۭ وَسَآءَ سَبِيلًۭا ٣٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
۳

خدا ہی نے تمام جانداروں کو پیداکیا ہے۔ وہی ان کے رزق کا انتظام کرتاہے۔ ایسی حالت میں کسی انسان کا کسی کو رزق کی تنگی کا نام لے کر ہلاک کرنا ایک ایسا کام کرناہے جس کا اس سے کوئی تعلق نہ تھا۔ جب رزق کا انتظام خداکی طرف سے ہورہا ہے تو کسی کو کیا حق ہے کہ وہ کسی جان کو اس اندیشہ سے ہلاک کرے کہ وہ کھائے گی کیا۔

’’ہم ان کو بھی رزق دیں گے اور تم کو بھی‘‘ ان الفاظ کے ذریعہ انسان کے ذہن کواس معاملہ میں تخریب کے بجائے تعمیر کی طرف موڑا گیا ہے۔ غور کیجيے کہ جو انسان موجود ہیں وہ اپنا رزق کس طرح حاصل کررہے ہیں۔ وہ اس کو خدا کے فراہم کردہ پیداواری وسائل پر عمل کرکے حاصل کررہے ہیں۔ یہی طریقہ آئندہ آنے والی نسل کے لیے بھی درست ہے۔ تم کو چاہیے کہ مزید پیدا ہونے والوں کو خدا کے پیدواری وسائل میں مزید عمل کرنے پر لگاؤ، نہ کہ خود پیدا ہونے والوں کی آمد کو روکنے لگو۔

خدا انسانوں کے درمیان جن اعمال کو مکمل طورپر ختم کرنا چاہتاہے ان میں سے ایک زنا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ ’’زنا کے قریب نہ جاؤ‘‘ یعنی زنا اتنی بڑی برائی اور بے حیائی ہے کہ اس کے مقدمات سے بھی تم کو پرہیز کرنا چاہیے۔ یہاں اس سلسلہ میں صرف اصولی حکم دیا گیا ہے۔ اس کے تفصیلی احکام آگے سورۂ نور میں بیان کيے گئے ہیں۔