شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 16:41 تا 16:42
والذين هاجروا في الله من بعد ما ظلموا لنبوينهم في الدنيا حسنة ولاجر الاخرة اكبر لو كانوا يعلمون ٤١ الذين صبروا وعلى ربهم يتوكلون ٤٢
وَٱلَّذِينَ هَاجَرُوا۟ فِى ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا۟ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا حَسَنَةًۭ ۖ وَلَأَجْرُ ٱلْـَٔاخِرَةِ أَكْبَرُ ۚ لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ ٤١ ٱلَّذِينَ صَبَرُوا۟ وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ٤٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
۳

منکرین اور مکذبین کے بالمقابل ذرا مومنین صادقین کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے جو نہ صرف اپنے نظریہ حیات پر پختہ ایمان رکھتے ہیں بلکہ اس کے لئے اپنا مال اور اپنا ملک چھوڑ کر ہجرت بھی کرتے ہیں اور یہ کام وہ صرف رضائے الٰہی کی خاطر کرتے ہیں۔

آیت نمبر 41 تا 42

یہ لوگ جنہوں نے اپنے ملک و مال کو چھوڑ کر ہجرت کی ، اپنی جائیداد اور محبب آبائی وطن سے دستکش ہوگئے۔ انہوں نے ملک ، رشتہ داروں اور اپنی محبوب یادوں کی قربانی دی۔ یہ لوگ دار آخرت میں عوضانہ کے مستحق ہیں۔ انہوں نے جو جو قربانیاں دیں اس کا اجر تو انہیں ملنا چاہئے۔ پھر یہ مال اور ملک انہوں نے خوشی سے نہیں چھوڑا بلکہ ظلم سے تنگ آکر چھوڑا۔ اگر یہاں انہوں نے اپنی اچھی رہائش گاہیں چھوڑیں تو لازم ہے کہ دنیا میں بھی ان کو ان حالات سے اچھے حالات نصیب ہوں۔

لنبوئنھم فی الدنیا حسنۃ (16 : 41) ” ان کو ہم دنیا میں بھی اچھا ٹھکانا دیں گے “۔ اور آخرت میں بھی ان کو ہم اچھے مقامات پر ٹھہرائیں گے۔ ولاجر الاخرۃ اکبر (16 : 41) ” اور آخرت کا اجر بہرحال بڑا ہے “۔ اے کاش کہ لوگ اس بات کو جانتے۔

الذین صبروا وعلی ربھم یتوکلون (16 : 42) ” جنہوں نے صبر کیا اور جو اپنے رب کے بھروسے پر کام کر رہے ہیں “۔ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے ، اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اسی کی طرف متوجہ ہیں۔ اگر قیامت نہ ہو تو ایسے لوگوں کا اجر کہاں ان کو ملے گا۔

٭٭٭

اس سے قبل مشرکین کے عذرات کو رد کرتے وقت یہ کہا گیا کہ اللہ کی مرضی نہیں ہے کہ تم یا تمہارے آباء شرک کرو ، ورنہ وہ رسول کیوں بھیجتا۔ جو ہر امت میں بھیجے گئے۔ یہاں اب رسولوں کے منصب کے فرائض ذرا تفصیل سے بیان کئے جاتے ہیں اور نبی آخر الزمان ﷺ کے فرائض کا بھی تعین کیا جاتا ہے ، اور حکم دیا جاتا ہے کہ وہ جو دعوت دے رہے ہیں اگر تم نے اس کا انکار کیا تو اس کے نتائج اچھے نہ ہوں گے۔