Estás leyendo un tafsir para el grupo de versículos 7:142 hasta 7:143
۞ وواعدنا موسى ثلاثين ليلة واتممناها بعشر فتم ميقات ربه اربعين ليلة وقال موسى لاخيه هارون اخلفني في قومي واصلح ولا تتبع سبيل المفسدين ١٤٢ ولما جاء موسى لميقاتنا وكلمه ربه قال رب ارني انظر اليك قال لن تراني ولاكن انظر الى الجبل فان استقر مكانه فسوف تراني فلما تجلى ربه للجبل جعله دكا وخر موسى صعقا فلما افاق قال سبحانك تبت اليك وانا اول المومنين ١٤٣
۞ وَوَٰعَدْنَا مُوسَىٰ ثَلَـٰثِينَ لَيْلَةًۭ وَأَتْمَمْنَـٰهَا بِعَشْرٍۢ فَتَمَّ مِيقَـٰتُ رَبِّهِۦٓ أَرْبَعِينَ لَيْلَةًۭ ۚ وَقَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَـٰرُونَ ٱخْلُفْنِى فِى قَوْمِى وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ ٱلْمُفْسِدِينَ ١٤٢ وَلَمَّا جَآءَ مُوسَىٰ لِمِيقَـٰتِنَا وَكَلَّمَهُۥ رَبُّهُۥ قَالَ رَبِّ أَرِنِىٓ أَنظُرْ إِلَيْكَ ۚ قَالَ لَن تَرَىٰنِى وَلَـٰكِنِ ٱنظُرْ إِلَى ٱلْجَبَلِ فَإِنِ ٱسْتَقَرَّ مَكَانَهُۥ فَسَوْفَ تَرَىٰنِى ۚ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُۥ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُۥ دَكًّۭا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًۭا ۚ فَلَمَّآ أَفَاقَ قَالَ سُبْحَـٰنَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْمُؤْمِنِينَ ١٤٣
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

حضرت ہارون موسی کے بڑے بھائی تھے، حضرت موسیٰ کی عمر ان سے تین سال کم تھی۔ مگر نبوت اصلاً حضرت موسیٰ کو ملی اور حضرت ہارون ان کے ساتھ صرف مددگار کی حیثیت سے شریک كيے گئے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ دینی عہدوں کی تقسیم میں اصل اہمیت استعداد کی ہے، نہ کہ عمر یا اسی قسم کی دوسری اضافی چیزوں کی۔

حضرت موسی کو مصر میں دعوتی احکام ديے گئے تھے اور صحرائے سینا میں پہنچنے کے بعد پہاڑی پر بلاکر قانونی احکام ديے گئے۔ اس سے خدائی احکام کی ترتیب معلوم ہوتی ہے۔ عام حالات میں خدا پرستوں سے جو چیز مطلوب ہے، وہ یہ کہ وہ ذاتی زندگی کو درست کریں،اور خدا کے پرستار بن کر رہیں۔ اسی کے ساتھ دوسروں کو بھی توحید وآخرت کی طرف بلائیں۔ مگر جب اہل ایمان آزاد اور بااختیار گروہ کی حیثیت حاصل کرلیں ، جیسا کہ صحرائے سینا میں بنی اسرائیل تھے، تو ان پر یہ فرض بھی عائد ہوجاتا ہے کہ اپنی اجتماعی زندگی کو شرعی قوانین کی بنیاد پر قائم کریں۔

حضرت موسیٰ نے اپنی غیر موجودگی کے لیے جب حضرت ہارون کو بنی اسرائیل کا نگراں بنایا تو فرمایا أَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ 7:142 ) )اس سے معلوم ہوتاہے کہ اجتماعی سربراہ کے ليے اپنی ذمہ دایوں کو ادا کرنے کا بنیادی اصول کیا ہے۔ وہ ہے — اصلاح اور مفسدین کی پیروی نہ کرنا۔ اصلاح سے مراد یہ ہے کہ مختلف افراد کے درمیان انصاف کا توازن کسی حال میں ٹوٹنے نہ دیا جائے۔ ہر ایک کو وہی ملے جو اس کو از روئے عدل ملنا چاہيے اور ہر ایک سے وہی چھینا جائے جو ازروئے عدل اس سے چھینا جانا چاہیے۔ اس اصلاحی عمل میں اکثر وقت خرابی پیدا ہوتی ہے جب کہ سردار ’’مفسدین‘‘ کی پیروی کرنے لگے ۔ یہ پیروی کبھی اس شکل میں ہوتی ہے کہ اس کے مقربین اپنے ذاتی اغراض کی بنا پر جو کچھ کہیں وہ ان کو مان لے۔ اور کبھی اس طرح ہوتی ہے کہ مفسدین کی طاقت سے خوف زدہ ہو کر وہ خاموشی اختیار کرلے۔

حضرت موسیٰ نے خدا کو دیکھنا چاہا اور جب معلوم ہوا کہ خدا کو دیکھنا ممکن نہیں تو انھوں نے توبہ کی اور بغیر دیکھے ایمان کا اقرار کیا— انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ دیکھے بغیر خدا کو مانے۔ خدا کو دیکھنا ایک اخروی انعام ہے پھر وہ موجودہ دنیا میں کیوں کر ممکن ہوسکتا ہے۔