Estás leyendo un tafsir para el grupo de versículos 4:116 hasta 4:122
ان الله لا يغفر ان يشرك به ويغفر ما دون ذالك لمن يشاء ومن يشرك بالله فقد ضل ضلالا بعيدا ١١٦ ان يدعون من دونه الا اناثا وان يدعون الا شيطانا مريدا ١١٧ لعنه الله وقال لاتخذن من عبادك نصيبا مفروضا ١١٨ ولاضلنهم ولامنينهم ولامرنهم فليبتكن اذان الانعام ولامرنهم فليغيرن خلق الله ومن يتخذ الشيطان وليا من دون الله فقد خسر خسرانا مبينا ١١٩ يعدهم ويمنيهم وما يعدهم الشيطان الا غرورا ١٢٠ اولايك ماواهم جهنم ولا يجدون عنها محيصا ١٢١ والذين امنوا وعملوا الصالحات سندخلهم جنات تجري من تحتها الانهار خالدين فيها ابدا وعد الله حقا ومن اصدق من الله قيلا ١٢٢
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِۦ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَـٰلًۢا بَعِيدًا ١١٦ إِن يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ إِنَـٰثًۭا وَإِن يَدْعُونَ إِلَّا شَيْطَـٰنًۭا مَّرِيدًۭا ١١٧ لَّعَنَهُ ٱللَّهُ ۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًۭا مَّفْرُوضًۭا ١١٨ وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَـَٔامُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ ءَاذَانَ ٱلْأَنْعَـٰمِ وَلَـَٔامُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ ٱللَّهِ ۚ وَمَن يَتَّخِذِ ٱلشَّيْطَـٰنَ وَلِيًّۭا مِّن دُونِ ٱللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًۭا مُّبِينًۭا ١١٩ يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ ۖ وَمَا يَعِدُهُمُ ٱلشَّيْطَـٰنُ إِلَّا غُرُورًا ١٢٠ أُو۟لَـٰٓئِكَ مَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ وَلَا يَجِدُونَ عَنْهَا مَحِيصًۭا ١٢١ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّـٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۖ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقًّۭا ۚ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ ٱللَّهِ قِيلًۭا ١٢٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

جو شخص ایک اللہ کو پکڑ لے اس کے عمل کی جڑیں خدا میں قائم ہوجاتی ہیں۔ اس سے وقتی لغزش بھی ہوتی ہے۔ مگر اس کے بعد جب وہ پلٹتا ہے تو دوبارہ وہ حقیقی سرے کو پالیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے سوا کہیں اور اٹکا ہوا ہو وہ گویا اس زمین سے محروم ہے جو اس کائنات میں واحد حقیقی زمین ہے۔ بظاہر اگر وہ کوئی اچھا عمل کرے تب بھی وہ خدا کے سرچشمہ سے نکلا ہوا عمل نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ ایک اوپری عمل ہوتا ہے جو معمولی جھٹکا لگتے ہی باطل ثابت ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توحید کے ساتھ کیا ہوا عمل آخرت میں اپنا نتیجہ دکھاتا ہے اور شرک کے ساتھ کیا ہوا عمل اسی دنیا میں برباد ہو کر رہ جاتا ہے، وہ آخرت تک نہیں پہنچتا۔

اس دنیا میں آدمی کا اصلی مقابلہ شیطان سے ہے۔ تاہم شیطان کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ وه اتنا کرسکتا ہے کہ آدمی کو لفظی وعدوں کا فریب دے اور فرضی تمناؤں میںالجھائے۔ اور اس طرح لوگوں کو حق سے دور کردے۔ شیطان کی گمراہی کی دو خاص صورتیں ہیں۔ ایک، توہم پرستی اور دوسرے، خدا کی تخلیق میں فرق کرنا۔ توہم پرستی یہ ہے کہ کسی چیز سے ایسے نتیجہ کی امید کرلی جائے جس نتیجہ کا کوئی تعلق اس سے نہ ہو۔ مثلاً خود ساختہ مفروضوں کی بنیاد پر اللہ کے سوا کسی اورچیز کو معاملات میں مؤثر مان لینا، حالاں کہ اس دنیا میں اللہ کے سوا کسی کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ یا زندگی کو عملاً دنیا کے حصول میں لگا دینا اور آخرت کے بارے میں فرضی خوش خیالیوں کی بنا پر یہ امید قائم کرلینا کہ وہ اپنے آپ حاصل ہوجائے گی۔ شیطان کے بہکاوے کا دوسرا طریقہ اللہ کے بتائے ہوئے نقشہ کو بدلنا ہے۔ خدا نے انسان کو اس فطرت پر پیدا کیا ہے کہ وہ اپنی تمام توجہ کو اللہ کی طرف لگائے، اس فطرت کو بدلنا یہ ہے کہ انسان کی توجہات کو دوسری دوسری چیزوں کی طرف مائل کردیا جائے۔ یا کسی مقصد کے حصول کا جو طریقہ فطری طورپر مقرر کیا گیا ہے اس کو بدل کر کسی خود ساختہ طریقے سے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ کائنات کے خدائی نقشہ کی مطابقت میں انسان کو جس طرح رہنا چاہیے اس نقشہ کو ناپيد کردیا جائے۔