الا من تاب وامن وعمل عملا صالحا فاولايك يبدل الله سيياتهم حسنات وكان الله غفورا رحيما ٧٠
إِلَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ عَمَلًۭا صَـٰلِحًۭا فَأُو۟لَـٰٓئِكَ يُبَدِّلُ ٱللَّهُ سَيِّـَٔاتِهِمْ حَسَنَـٰتٍۢ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا ٧٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 70 اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا ”گویا جو شخص اس طرح کے کبیرہ گناہوں میں ملوث ہوتا ہے اگرچہ قانوناً اس کا شمار کافروں میں نہیں ہوتا مگر حقیقی ایمان اس کے دل سے نکل جاتا ہے۔ اس لیے یہاں توبہ کے بعد ایمان کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔ چناچہ ایسے شخص کی توبہ دراصل از سر نو ایمان لانے کے مترادف ہے۔ بہر حال اگر اس نے موت کے آثار نظر آنے سے پہلے پہلے مَا لَمْ یُغَرْغِرْ توبہ کرلی تو اس کو عذاب سے استثناء مل سکتا ہے۔فَاُولٰٓءِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ ط ”اس کے دو معنی ہیں۔ ایک تو یہ کہ نامۂ اعمال میں جو برائیوں کا اندراج تھا وہ صاف کردیا جائے گا اور اس کی جگہ نیکیوں کا اندراج ہوجائے گا۔ اور دوسرے یہ کہ توبہ کرنے سے انسان کے دامن اخلاق کے دھبےّ دُھل جاتے ہیں اور اس کا دامن صاف شفافّ ہوجاتا ہے۔