اصحابِ کہف جب سوکر اٹھے تو قدرتی طورپر وہ آپس میں ذکر کرنے لگے کہ وہ کتنی مدت تک سوئے ہوں گے۔ مگر زمانہ خدا کے حکم کے تحت ان کے لیے ٹھہر گیا تھا۔ اس لیے جو مدت دوسروں کے لیے صدیوں میں پھیلی ہوئی تھی وہ اصحابِ کہف کو بس ایک دن کے برابر معلوم ہوئی۔
سو کر اٹھنے کے بعد انھیں بھوک کا احساس ہوا۔ ان کے پاس کچھ چاندی کے سکے تھے۔ انھوںنے اپنے میں سے ایک شخص کو ایک سکّہ لے کر بھیجا۔ غالباً ان کا خیال ہوگا کہ شہر کے جن حصوں میں عیسائی بستے ہوں گے وہاں حلال کھانا مل سکے گا۔ اس لیے انھوںنے کہا کہ تلاش کرکے پاکیزہ کھانا لے آنا۔ نیز انھوںنے تاکید کی کہ سارا معاملہ نہایت خوش تدبیری سے انجام دینا۔ کیوں کہ سابقہ تجربہ کی بنا پر انھیں اندیشہ تھا کہ اگر وہ لوگ ہم سے باخبر ہوجائیں گے تو وہ ہمیں دوبارہ بت پرست بنانے کی کوشش کریں گے۔اور جب ہم راضی نہ ہوں گے تو وہ ہم کو مار ڈالیں گے۔